خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPDnnبائیس ویں قسطnnاکثر اوقات یہ معاشرہ بذات خود ،ایسے افراد کو مجرم/نفسیاتی قرار دے دیتا ہے یا نارسسٹ کہہ دیتا ہے ،جو ، خود پہ، بیتے جذباتی ٹارچر خواہ مذہب کے نام پہ ہو، اسلامی نظام کے نام پہ ہو، یا پھر ،حب الوطنی کی جھوٹی سچی کہانیاں، سنا سنا کر ، کیا گیا ہو، اس کی کہانیاں شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔n nاسلامی جماعت/مختلف دوسری تحاریک ، جو مذہبی چورن فروشی کرتی ہیں ، ان سے جڑے، چند سابقہ ملازمین ، نے اپنے اپنے اداروں کے۔ قال اللہ قال الرسول بیچنے والے سربراہان کی ، اخلاقی کرپشنوں کی داستان جتنی بھی سنائیں، ان کا لب لباب یہ نکلتا ہے۔
زیادہ کام ،پیسے کم
اور جتنے طے کیے جائیں وہ بھی مختلف حیلے بہانوں سے غصب کرلیے جائیں
نااہل افراد کی تقرری اور کام کی گرتی کوالٹی پر سوال جواب کرنے پر ، منہ بند رکھنےکا عندیہ
کارکنان/ ایمپلائیز کو، آخرت کے وعدے ، اور ذاتی جیبیں فل۔
ویژن سے عاری
بات کرنے پہ، سوشل پریشر کی دھمکیاں
یا کچھ بے پٹہ قسم کے/ماہر نفسیات / موٹی وشنل اسپیکروں /مذہبی نفسیاتی مریضوں کو ، سوشل میڈیا پر، ذاتی حملوں / گیس لائٹنگ کے لیے چھوڑ دیا جائے
جو نرم خوئی ، داعی، دعائیہ ماسک لگا کر، اپنا امیج بھی اچھا رکھیں، اور یہ دھوکہ دیں کہ وہ آپکے خیر خواہ ہیں، اور آپ کے لیے دعا گو ہیں (لول)۔nnیا پھر جو لوگ اپ کو پہچان رہے ہوں،انہیں چلمنوں کے پیچھے ایسے افراد سے دور رہنے کی تنبیہ کی جائے، جو آپ کے کرتوت سامنےلاتے ہوں۔
اس کی مزید تفصیل، درج زیل سیریز جو فرحان ظفر نے nnمشن بیسڈ ادارے کے نام سے لکھی تھی اس لنک پر پڑھ لیںnnhttps://www.facebook.com/FarhanZafarShah/posts/10218139067761963nnفرحان ظفر نے۔ ایسے بے حمیتوں کا تذکرہ ںہت تفصیل سے کررکھا ہے، اب ایسے ادارے کا سربراہn وہ پروفیشنل ہو مذہبی ہو ،اللہ کے نام پر کام لے کر اور حق مار کے بیٹھا ہو،لیکن اس کی کہانی اگر شیئر کی جائے، تو اس پہ بھی تپتا ہے کہ ، نام لیے بغیر بھی کیوں ڈالی ، ظاہر ہے چور کی ڈاڑھی میں تنکا ہوتا ہے ، ان لوگوں کے تو شہتیر ہیں nn ،گویا اس نے جو عمل کیا ،اس کی اس کو شرمندگی نہیں ہوتی، لیکن اگر اس کی کہانی کو ،سوشل میڈیا پر ڈالا جائے وہ بھی نام لیے بغیر تو بھی اسے، اس بات کی بڑی تکلیف ہوتی ہے ،اور پھر وہ ،محفل میں بیٹھ کر ذآتی حملوں ، جوابی الزام تراشی ، اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتا ہے، جو کہ گیس لائٹنگ کی ہی شکل ہیں ، کہ حقیقت پر اتنی گرد اڑاو کہ ، لوگ کنفیوزڈ ہوجائین nیعنی ان کا پردہ چاک کرنے والوں کے بارے میں ، اس طرح کی باتیں nn ،اس کا تو دماغ خراب ہے ،کہ وہ سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے،nn اور یہ اکثر اسلامی جماعت کے کارکنان میں یہ بیماری ہوتی ہے اپنے کیے پر پشیمانی نہیں ہوتی لیکن جس کا حق مارا ہو اگر وہ نام لئے بغیر آواز بھی اٹھائے تو بھی انہیں تکلیف ہوتی ہےnnایک صاحب پوچھنے لگے
آپ ان مضامین میں نارسسزم پر بات کرتے کرتے مذہبی لوگوں کے خلاف کیوں چلے جاتے ہیں ؟nnمیں بس اتنا کہوں گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہی کیوں کہ، جلد، مذہبی نارسسزم کے مریضوں پہ ایک الگ سے سیریز لکھوں گا یا کم از کم پوڈ کاسٹ تو کروں گا ، جو بہت سوں کی پدرم سلطان بود چیر کر رکھے گی
مسالک یوں یا اسلامی جماعت ان کے زعم تقوے ،تو یقیناً رگڑ میں آئیں گے
یہاں بس اتنا تذکرہ مقصود تھا کہ ایک تو آپ کی سوشل میٰڈیا پر فالوونگ اچھی ہو ، nکیونکہ آپ بڑے دھیمے دھیمے انداز میں مسکرا کے داعی کے انداز میں ہر بات کا آغاز nnنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
سے کریں گے nnسے کریں کریں اور اس کے علاوہ آپ سلامی جماعت کے کارکن ہیں ۔ ناظم ہیں ، امیر ہیں ، رکن امیدوار ہیں ، سیکٹر انچارج ہیں ، جو بھی ہیں nnگویا لیڈر کی مل گئی تو سوچیں۔ایک تو لیڈری nدوسرا سوشل میڈیا پر فالوونگ یعنی فورم
تیسرا مذہب یعنی زعم تقوی کا ٹھپہ nnتو آپ کا ، نارسسزم ، nکس انتہا پر پہنچ چکا ہوگاn تو پھر جب اس کے خلاف بات کی جائے گی تو آپ کو تکلیف تو لازمی ہوگی، ہونی بھی چاہئے، کب تک آپ اسلامی نظام کے نام پہ ،مذہبی معاشرتی اخلاقی اور نفسیاتی غنڈہ گردی جاری رکھیں گے ؟nn-جاری ہے
پوسٹ – 2021-05-16
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد