سعادت حسن منٹو سے کسی نے پوچھا: کیا حال ہے آپ کے مُلک کا؟
کہنے لگے؛ بالکل ویسا ہی جیسا جیل میں ہونے والی جمعہ کی نماز کا ہوتا ہے۔ nاذان فراڈیا دیتا ہے، امامت قاتل کراتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں۔
شراب کا دوسرا گھونٹ بھرتے ہوئے ، منٹو نے قدرے توقف کے بعد کہا
اور جس شرابی ، کام چور، نکمے ، مال مفت کے شوقین کو دیکھو ، لکھاری یا شاعر بن جاتا ہے ۔n- منٹو گردی سے اقتباس
پوسٹ – 2021-05-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد