چند باتیں سمجھ لیجئے ، منٹو نے اپنی زندگی کا بہت سا تلخ حصہ، بوتل میں قلم ڈبو کر کاغذ پر پھیلایا ہے ۔۔ ممتاز مفتی کے بقول وہ ایک بڑا آدمی تھالیکن یہ بات اسے بوتل نے سمجھنے نہ دی ۔۔ ہاں یہ بھی درست ہے کہ منٹو نے پارٹیشن کے لمحے اپنی آنکھوں سے جیے ہیں ، دیکھے نہیں ، جیے ہیں ۔۔ جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں راکھ سے “سیاہ حاشیے “nاتر آئے ۔اسی طرح اور بہت سی تلخ نوائی کو بوتل تلے دبا کر وہ کاغذ جوڑتا رہا ، قلم سے معاشرہ کھودتا رہا ، پچھلے محلے گھومتا رہا اوراس کو بیان کرتا رہا۔ اس کیn” کالی شلوار “میں جو “ٹھنڈا گوشت” پھنسا ہے اس کی “بو” آج بھی “کھول دو” کی صداوں سے لوگوں کی کنپٹیاں گرم کیے رکھتا ہے۔، صرف ان لوگوں کی ، جنہوں نے منٹو کاn”ٹوبہ ٹیک سنگھ” نہیں دیکھا، جو نہیں جانتے تھے کہ nمنٹو کیn”آنکھیں” n”خالی ڈبے، خالی بوتلیں” ، دیکھ کر اس میں مجرد زندگی کا دکھ ، بھانپ لیتی ہیں nجنہیں خبر نہیں کہ ، منٹو کے “تلخ وشیریں” کا ذایقہ کیسا ہے
اتنی تلخی کوئی پیٹ بھرا کم ہی لکھ سکتا ہے ۔۔ اتنا ڈپریشن کوئی نارمل آدمی کم ہی بیان کرسکتا ہے ۔ یا شاید بالکل ہی نہیں کرسکتا ۔
پوسٹ – 2021-05-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد