بزنسnnچھت پر وہ سامنے کپڑے اتار رہی تھی تار سے – بارش کا موسم تھا اس لیے شاید آج جلدی چھت پر آگئی تھی تاکہ سوکھے کپڑے بھیگ نہ جائیں
میں روز اسے دیکھا کرتا تھا بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی ، کیسے ہوتی محلے کا گھر اور سامنے والوں کو آئے ہوئے دو مہینے بھی نہیں ہوئے تھے ۔۔ محلے داریاں اب پہلے کی سی کہاں رہیں جو بندہ کچھ پکا کر ان کے گھر ہی دے آتا میں ویسے بھی اکیلا رہتا تھا ، بھرے پرے گھر میں کیسے جا گھستا – بس موقع کی تلاش میں تھا کہ اس سے بات ہوجائے ، لیکن وہ دیکھتی بھی نہیں تھی شاید مجھ میں ہی کوئی خامی تھِی میں نے شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا — اچھا خاصا تو ہوں ۔۔ پھر کیا مسئلہ ہے ، کہیں وہ کسی اور سے ۔۔ نہیں نہیں ۔۔ ایسی لگتی تو نہیں میں نے خود کو جھٹلایا – اگلے دن پھر چھت پر گیا وہ نہیں آئی تھی ، ان کے ہاں میلاد چل رہا تھا میں پاکیزہ حسن کو حجاب میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ زیادہ کپڑوں میں کیسی لگتی ہوگی لیکن میری یہ خواہش پوری نہیں ہوئی -nدن گزرتے جا رہے تھے ، گھر سے فون پر فون آرہے تھے ، شادی کے لیے لڑکی دیکھی جا رہی تھی – میں نے آج فیصلہ کر ہی لیا تھا کہ میں اس سے بات کر کے رہوں گا -nوہ چھت پر کھڑی تھی جب میں نے کنکر اس کی جانب اچھالا
پھربات بڑھتی گئی اس کی طرف سے مثبت ریسپانس ملنے پر فون نمبر کے تبادلے ہوئے ، راتیں ہینڈز فری کے سنگ گزرنے لگیں -nایک دن میں نے اس کو ریڈائی لہروں پر پرپوز کر ہی دیا -nوہ ہنسی
میں سمجھا شرما گئی ہے
پھر مجھے محسوس ہوا کہ ہنسی میں مضحکہ خیزی شامل ہے
پاگل تمھیں یہ کیوں لگا کہ میں تم سے شادی کروں گی
کیوں مجھ میں کیا مسئلہ ہے ۔۔ ؟
مسئلہ تو ہے
تم کو نہیں معلوم تم کیا چیز ہو
میں گربڑا گیا
کیا مطلب میں کیا چیز ہوں عام سا انسان ہوں پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں اور کیا
اور وہ جو میلاد میں آئی خالہ کہہ رہی تھیں تمھارے بارے میں – اس کا لہجہ گھمبیر ہوگیا – مجھے محسوس ہوا بات کرتے کرتے اس نے تکیہ کو دبوچ لیا ہے
کیا کہہ رہی تھیں
یہی کہ تم لڑکیوں کا شکار کر کے ان کو علاقہ غیر میں بیچ آتے ہو
پاگل ہوگئی ہو کیا میں چلایا
میں اتنی بھی پاگل نہیں وہ کہتی ہیں انہوں نے خود کئی لڑکیوں کو تمھاری بائک پر گھومتے دیکھا ہے پھر وہ دوبارہ محلے میں نظر نہیں آئیں
میں ہونق تھا-nیار صاف انکار کردو اگر شادی نہیں کرنی ایسے بے ہودہ الزام نہیں لگاو
میں تو نہیں کرتی تم سے شادی کوئی اور دیکھ لو
اس نے فون کاٹ دیا
ہار مان کر میں نے دوسرا موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ملایا
کون؟
دوسری طرف سے اسفندیار تھا — میرا بزنس پارٹنر
چڑیا اڑگئی ہے اس بار مال کی ڈیلوری نہیں دے سکوں گا
جواب اسفند پتا نہیں کیا کیا کہتا رہا میں نے فون کاٹ دیا
میں پھرآئینے کے سامنے کھڑا خود کو گھورنے لگاn”مجھ میں آخر برائی کیا ہے ، کوئی لڑکی مجھ سے تعلق کیوں نہیں رکھتی بزنس تو بزنس ہوتا ہےnWhy no body loves me n– یہ کہتے ہوئے دو آنسو میری آنکھوں سے بہہ نکلے
پوسٹ – 2021-05-14
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد