جتنے بھی اسلامی مذہبی سیاسی جماعتوں کے، ننھے منھے جوشیلے، اسرائیل کی بربریت پر اسے غاصب، قابض کہہ رہے ہیں، nان کے لیے ایک سوال، nخود سے پوچھیں اور خود کو جواب دے کر تھوڑی شرم اور احساس کریں،
کیا ایسے ننھے منھے جوشیلے اسلامی جماعت کے ان، افراد کے نام لے کر ، انہیں ایکسپوز کرسکتے ہیں،، جنہوں نے nفلاح کے نام پر بنے ، سو کالڈ تحریکی اداروں کا ویژن
تہہ و بالا کر رکھا ہے، اور، اپنے مفاد کی میٹھی منافق چھری سے، حقیقی مواخات کی روح، ذبح کر رہے ہیں۔
کیا یہ جوشیلے ، جو، اسرائیل کو کچھ نہ کہنے پر، عربوں کو لعن طعن کررہے ہیں ، ان
مزکورہ افراد کے خلاف بول سکتے ہیں ؟nnیہ والی پوسٹ، صرف پڑھ کر ایسے خاموش افراد کی جو کیفیت ہوئی یے،
وہی ایگزیٹلی، عربوں کی کیفیت ہے۔
سوشل امیج، مفاد، سوشل پریشر، رشتے داریں، قرابت داری، ایک دوسرے کو کور کرکے چلنے کی روش۔
تو بس پھر منہ بند کرو، اور اپنا گھر صاف کرو، امت کا درد تم لوگوں کی نظریں چرانے کی کوشش ہے، بس اور کچھ نہیں، ڈسپلیسمنٹ آف اینگر ہے، ود ڈرال، ڈینائل موڈ ہے۔ nنتھنگ ایلس۔
گھر میں نہیں دانے، خالہ گئی بھنانے۔
پوسٹ – 2021-05-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد