نارسسٹ آپ کو اشتعال دلائےگا ، ہر وہ کام کرے گا ،جس کا اسے پتا ہے، کہ اس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے، اور پھر آپ اشتعال میں آتے ہو۔
اور جیسے ہی آپ اشتعال میں۔ آو گے، وہ گیس لائٹنگ کرے گا
گیس لائٹنگ ،یعنی اپنی حرکت کو مکمل ڈینائئ کرکے، سارا الزام، آپ کے ردعمل پہ ڈالنے کو عادت بنا لینا، بلکہ فطرت ثانیہ بنا لینا۔
مثلا، اپنی متواتر، مسلسل، اشتعال انگیزی کے نیتجے میں، آپ کے ایک بار شور کرنے پر،یہ کہے گا تمھیں۔ بات کرنے کی تمیز نہیں، جب کہ آپ پہلے نرمی سے سمجھا رہے تھے تو اس لہجے کو وہ ‘جعلی’ منافقت، ڈھکوسلا۔ کہہ رہا تھا۔ خیر بعد میں چیخنے پہ، وہ آپ کو یہ کہے گا کہ nتم بد لحاظ ہو تم چیختے ہو، تمھار الفاظ سخت ہیں،۔
تو آپ نے جواب میں یہ کرنا ہے کہ۔ nاس وقت بجائے، غصے کو جسٹی فائی کرنے کے یا اس کی ادھر ادھر کی مزید اشتعال انگیزی کے جواب میں، ، اس سے بار ، ڈسٹیریکٹ ہونے کے، اس کی ناک رگڑ کر بار بار ، اس موضوع پہ لائیں، کہ ، کیوں ہوا ایسا ؟ تو نے آخر ایسا کیا ہی کیا تھا، جو نوبت یہاں تک آئی
اگر وہ بار بار ائ ڈونٹ کئیر، مجھے نہیں پتا، یا میں جو بھی کروں، تیرا چیخنا ،شور کرنا ،بدمزاجی کرنا (میری بارہا اشتعال انگیزی کے جواب میں)، جسٹی فائد نہیں، تو سمجھ جائیں، کہ یہ تمھیں، nاخلاقیات والی بکواس میں دھکیل رہا ہے، اسے باور کروادیں کہ ، تیری اخلاقیات تیری اشتعال انگیزی میں دفن ہوگئی تھی۔ nورنہ یہ گیس لائٹنگ یعنی آپ کو مجرم قرار دے دے کر مدعا صرف ‘چیخنا’ بنا لے گا
یاد رکھیں، نارسسٹ، کی جان ‘کیوں’ کے پتلے میں ہوتی ہے، اسی کے ٹینٹوے پہ ہاتھ جمائے، رکھیں، ادھر ادھر مت جانیں دیں۔
نوٹ: دیکھیں ہونگے آپ فیس بک بھی ایسے بے غیرت جو ، نارمل دلائل کے جواب میں، اشتعال انگیزی، ٹانٹ، بلیم گیم، فنگر پوائنٹنگ کرتے چلے جاتے ہیں ، اور پھر جب ان سے لہجہ بدل کر ان کی اتارو تو، پھر وہ مدعا ، اخلاقیات کو بنا لیتے ہیں۔۔ اسی چیز کو گیس لائٹنگ کہتے ہیں ۔ اور یہ بیماری بہت بڑھ چکی ہے، ہوشیار رہیں، ان کا علاج یہی ہے کہ ان سے ، سیدھے منہ بات ہی نہ کریں، کیوں کہ ان کا احساس شرمندگی۔ وقتی ہوتا ہے، اور انہں اپنے مفاد کے لیے ، نرم پڑنا ہوتا ہے۔، اور اس وقت انہیں مارجن مت دیں۔
کیوں کہ اس طرح اپ انہیں ، اور بیمار کردیں گے
پوسٹ – 2021-05-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد