خود پسند کا شکنجہ nnتیرہویں قسطnnجذباتی استحصال کرنے والا ، گیس لائٹنگ کے عمل کو انجوائے کرتا ہے ، اور اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ، رشتے کی تاریخ ، یعنی ماضی کی پوری کہانی بدل کررکھ دے nجس میں ، ظالم اور مظلوم کا کردار سوئچ ہوجائے ، اور سارا الزام شکار پر آجائے nnاور چونکہ ، جتنی شکار کے ساتھ ہوچکی ہوتی ہے nوہ ، ncognitive dissonance,nکا شکار ہوجاتا ہے nCognitve / Cognition nانسانی ذہن کے چار اعمال کا مجموعہ ہوتا ہے nاحساس/ادارک یعنی – Percieve nردعمل – یعنی Reactnپراسیس کرنا – یعنی عمل سے گزارنا
اور سمجھنا
گویا ، nCognition , nاس انسانی دماغ کی اس اہلیت/صلاحیت کو کہتے ہیں nجس کے ذریعے وہ انفارمیشن/علم /نالج ، حاصل کر کے ، اسے اپنی سوچ، حسیات اور تجربات کے ترازو پر تول کر ، جذب کرتا/ سمجھ پاتا ہے
اور نارسسٹ ، اپنے شکار کی یہ اہلیت ، تباہ کردیتا ہے nمذکورہ طریقوں سے جو پہلے بیان کیے گئے nاور اس کا شکار، nncognitive dissonance,nمیں الجھ جاتا ہے nnآسان ترین زبان میں ، اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جہاں ، آپ کو کہا کچھ جا رہا ہوں ، آپ ، عمل اس کے متضاد دیکھ رہے ہوں ، اور بار بار یہ ہوتا دیکھ کر ، آپ اپن ، ذہنی صلاحیت پر شک کرسکیں کہ شاید آپ کے ہی سوچنے سمجھنے کی حس یعنی nCognition nماری گئی ہے ، nnجب کہ ، ایسا عموما ہوتا نہیں ہے ، بس ، آپ کے اطراف کا ماحول ، نارسسٹ یہ کرتے ہں nچھوٹِی مثال nمذہبی نارسسٹ پاکستانی معاشرہ ، نام اسلامی اور کام “عوامی”nتو جو اسلام ، پاکستان یا پاکستانیوں کو دیکھ کر پڑھے گا ، اس کی ncognitivenability nکی پین دی سری ہوجانی ہے nاور موسٹلی مذہبی طبقہ ، آپ کو حقوق العباد یا اپنی مرضی کے اسلام کی طرف مائل بھی اسی لیے رکھتا ہے ، براہ راست، سیرت یا قرآن کی طرف نہیں جانے دیتا کہ ، آپ کی ساری حسیات جاگ جانی ہےnn-جاری ہے
پوسٹ – 2021-05-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد