پوسٹ – 2021-05-06

خود پسند کا شکنجہnnچھٹی قسطnnرشتہ کتنا سگا ہو، تعلق کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، اگر رشتے دار نارسسٹ ہے، یا اگر آپ خود بھی نارسسٹ ہیں ،یا میں خود بھی نارسسٹ ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہئےکہ nnایک وقت پر آ کر ان نارسسٹ(خود پسندی کے ذہنی عارضے کا شکار) افراد کی جذباتی مےنی پولیشن اس حد تک بڑھ جاتی ہے ، ان کے شکار افراد، کو یہ باور کروایا جاتا ہے، کہ جتنی بھی تلخیاں پرابلمز، مسائل صرف اور صرف متاثرہ فرد کی وجہ سے ہیں، اس میں نارسسٹ کا کوئی فالٹ نہیں، ذرا بھی نہیں، اور تو اور اس سب کو نارملائز کرنے کے لیے ، گرد اڑا کر اپنا آپ چھپانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ہہ سب غلط فہمی کہ سوا کچھ ، نہیں اور یہ ٹھنڈا گرم جو بھی ہے یہ نارسسٹ کا نہیں بلکہ اس کا فالٹ ہے،جو نارسسٹ بارے آواز اٹھا رہا ہے۔nnبدقسمتی سے نارسسٹ ہو یا پیسیو اگریسشن کا شکار کوئی ، کوی شخص، ان کے ایجنڈا، ان کی سوچ، ان کی مینے پولیشن انتہائی گہری اور دور رس ہوتی ہے
ان کے چنگل میں پھنسے افراد، ڈر ڈر کر، انتظار کرتے رہتے ہیں، ایک ہی چیز کہ کب ، پارٹنر کی عادت بدلے ،کب اس کی مہربانی ،بدمزاجی میں یا تلخیوں میں تبدیل ہو، کیونکہ یہ ایک مستقل سائیکل ہوتا ہے ، ایک چکر میں وہ بہت نرم مزاج خیال رکھنے والا اور مذکورہ بالا تمام اچھے فیچرز کا حامل جو بیان کئے گئے ہوتا ہے، اور، پھر اگلے چکر میں، آتا ہے تو وہ انتہائی سفاک حد تک بلیک میلر میںی پولیٹر، ابیوزر ہو چکا ہوتا ہے، اور شکار بےچارہ انتظار کرتا رہتا ہے،کہ کسی طرح جان چھوٹے، اس تعلق سے آزادی ملےn(غور کیجئئے، کہ کیا، پاکستانی معاشرے میں، دیرینہ تعلقات ہوں، یا پھر کچھ مذہبی تعفن ذدہ اسلامی جماعتوں کی کارکنان، بھی اسی طرح نہیں ہوتےکہ جان چھڑائےنہیں چھوٹتی ؟)nلیکن جان بس اس صورت میں چھوٹتی ہے کہ وہ انتظار کرنا ترک کر دے، اور ان افراد، ان رشتوں ،اس ماحول سے، دور جا کر الگ تھلگ ہو کر ان لوگوں ان افراد کے دیے ہوئے روح کے گھاو کے مندمل ہونے کا انتظار کریں
جی ہاں یہ جملہ، آپ نے یقیناً سنا ہوا کہ جسم کے گھاؤ تو بھر جاتے ہیں لیکن روح کے گھاو نہیں مرتے ، ہو سکتا ہے، کہ یہ ناکام ،شکست خوردہ، یا ایسے پیپل پلیزر افراد کی ذہنیت ہوسکتی ہے، جو چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ ایک ہی زہریلے ماحول میں گھسٹتے، سسکتے برباد ہوگئے، خود نہیں کچھ کر سکے، تو چلو اقوال زریں بنا کے دوسروں کو بھی کنڈیشن کردو، کہ کچھ نہیں ہو سکتا۔
یا پھ یہ جملہ نارسسزم سے اٹے پاکستانی معاشرے کی دین ہے کہ شکار بھاگ نہ سہے
کیوں کہ nایسا نہیں ہے ،
کیوں کہ،n روح کے گھاو بھی بھر سکتے ہیں، ہیل ہو سکتے ہیں nپر یاد رکھیں کہ، جتنا ، چھوڑنا مشکل، اتنا ان زخموں کا بھر جانا دشوار،n لیکن ناممکن نہیں ، اگر ماحول اچھا ،افراد مناسب اور سپورٹ گروپ تگڑا ہو۔ پھر باقئ کام بیلیف۔ سسٹم سے بھی ہوجاتا ہے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.