پوسٹ – 2021-05-03

پیسوو یا covert اگریشن کے شکار نارسسٹ، اپنے پبلک امیج کے بارے میں بہت زیادہ ، حساس اور کنسرنڈ ہوتا ہے، کو حساسیت محض اپنی شخصیت کے لیے سوجھتی ہے، لیکن، ظاہر وہ یہ کرتا ہے، کہ وہ سب کے لیے، حساس ہے،جعلی پلیزنٹریز ( مصنوعی مٹھاس) کا شائق ہوتا ہے، اس لیے اکثر، جو کام وہ روٹین میں کررہا ہوتا ہے، وہ اگر کوی دوسرا کبھی کبھار یا غصے میں کرے تو وہ نارسسٹ اسے اخلاقیات اور مذہب اور حقوق کی چاشنی بیچتا ہے،
مثلا آپ نے دیکھا ہوگا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں، اکثر افراد نارمل بات بھی چیخ کر، کرتے ہیں، خیر کراچی میں تو سڑکوں پہ نفسیاتی کھلے گھوم رہے ہیں، فون پہ، گلیون میں بائیک پہ، گاڑیوں میں، پبلک ٹرانسپورٹ میں، ہر جگہ نارمل بات بھی چیخ کر کرنا کامن ہے، خیرتو اب کوئی شخص، اگر غصے میں چیخ جائے، تو ایسے نارسٹٹ جو یہ کام ریگولر کرتے ہیں(نارمل بات بلا اشتعال چیخ کر کرنا )۔
تو وہ سب اسے یہ اخلاقیات تمیز تہذیب حقوق العباد سکھانے آجاتے ہیں
اور ان کا فیورٹ جملہ ہوتا ہےn’مسلمان کے ہاتھ اور زبان کےشر سے۔ محفوظ’nوالی حدیث۔
یہ سب آپ کو مذہبی نارسسٹ گھرانوں میں عام ملے گا۔
اس پورے معاشرے کو اس نہج پر لانے میں، پاکستانی مسلمانں ماہر نفسیات کا بھی اتنا ہی کردار ہے
کیوں کہ وہ کبھی جڑ نہں پکڑے گا
کیسے ؟nnملک میں دہشت گردی ہو تو کہا جاتا ایجنسیاں کیا کررہی ہیں ؟
معاشرے میں ذہنی مرض بڑھ رہے ہیں تو، یہ کس کا فالٹ ہے ؟
یہ لوگ کیا کررہے ہیں گولیاں بیچنے کے علاوہ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.