انسانی وجود، کشش کی لہریں پھینکتا ہے، جو کائینات کے عمیق ترین گوشوں تک پہنچتی ہیں، اور کشش کی وہ لہریں، کسی مخصوص فریکیونسی پہ سفر کرتی ہیں،
وہ مخصوص لہریں، کائینات میں اپنی ساتھی لہریں تلاش کرتی ہیں، ساتھی لہروں کیفریکیوئنسی، انسانی وجود سے خارج شدہ لہروں سے میچ کر جائے تو وہ، طاقتور سگنلبن کر پلٹتی ہیں، یہ لہریں، لا آف یونیورس کے مطابق ، دماغ کی سوچوں سے جنریٹ ہوتی ہیں،
اب جیسا سوچا ہوتا ہے، وہی لہریں، کائینات سے اپنی میچنگ فریکوئینسی(مثبت سوچ ہو یا منفی) والی لہروں سے مل کر، طاقتور ہوتی چلی جاتی ہیں،
اور پھر، انسان کی سوچیں، حقیقت کا رخ دھارنے لگتی ہیں،
یہی n’میں اپنے بندے کے گمانکے ساتھ ہوں’nکی سائنسی تشریح ہے۔۔
تم اور تمھارے گماشتے اگر کنٹینر پر ، اتنے مہینے ، منفی انرجیز پھینک کر آئے ہو ، تو کیسے ممکن ہے ، تمھیں ، جواب میں مثبت توانائی ملے ، nدیکھ لو ، بے گردن خنزیر الطاف کتنے برس مننفی انرجی تھرو کرتا رہا ، کیا حال ہوا
تمھیں یونی ورس، استثنا کیوں دے گا ؟
پوسٹ – 2021-05-02
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد