ایک ٹیچر دوست کا شکوہ nاک تو جس سے پیار کرنے کا سوچو
وہ منہ پھاڑ کر ، سر کہہ دیتی ہے ، اور پھر کہتی ہے ، آپ اتنے ڈیسنٹ ہیں ، آپ کی ریسپکٹ کرنے کا دل کرتا ہے ، ایسی باتیں نہ کیا کریں ناnnیار ایک تو تیرے یہ لول لول ، میں سیریس ہوں nہاں تو میں کیا کروں سیرس ہو کر ، میں نے تو نہیں کرنا نا پیار تم سے ، چلو اس کی بات ہو ، تو بات بھی ہے
یار بے غیرتی نہں کر بھابھی ہے تیری nلول ، وہ بھی تو مانے یہ باتn لول, پھر تو نے کیا کہا? اس کو nکہنا کیا ہے ، تو بتا کیا کہوں ؟
یار کہہ دے ، عزت آنی جانی چیز ہے ، پیار کرتا ہوں ، شادی کرلے ، پھر پوجتی رہنا ، عزت والا کارڈ کھیل کر ، اپنے آپ کو سیکور نہ کرلڑکی nمطلب ؟
ابے مطلب ، مرد کی نفسیات میں ایک “محافظ” ہوتا ہے ، اگر اس کی فطرت مسخ نہ ہوگئی ہو ، تو اسے جو لڑکی منہ سے بول دے یہ سب جو اوپر لکھا ہوا ہے ، تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی حفاظت پر مجبور ہوجاتا ہے nاوہ nہاں nتجھے کیسے پتا
بہت کنوارے مجاہد ٹیچر دوست ہیں 😛
پوسٹ – 2021-05-01
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد