رائٹر بننے کے لیے ہی، قرآن کا مطالعہ کرلو، باقی،سب خود ہی بن جاو گےnnکچھ دنوں سے صالح پوسٹس کررہا ہوں، کہیں آخری وقت تو نہیں آگیا میرا لول۔nnچیک کریں ایک سٹیٹس میں، دو طرح کی ایموشنل انگیجمنٹ، nمذہبی اور جذباتیnnبس کری ایٹو رائٹنگ کی ورکشاپس میں ، ایموشنل انگیجمنٹ پہ ہی زیادہ ، زور دیا جاتا ہے ، اور یہ ضروری بھی ہوتی ہے، ہاں آف کورس مذہب فروشی نہیں کرنی چاہئے۔
کونٹینٹ رائٹنگ میں، مختصر پر اثر پہ بھی فوکس رکھیں
مثلا یہی دو جملے جو اوپر لکھیں ہیں
یہ الگ الگ پوسٹ کردیئے جائیں تو ،
ان کی پبلک ریچ اچھی بنے گی، قرآن والے /مذہبی پوسٹ کی تو یونی ورسل ہے، کہ پاکستان اسلامی ملک ہے (لول) ، nدوسرے والے یعنی آخری وقت والے جملے کی ریچ، غیر ضروری، موسٹلی جعلی حساس ٹائپ کے افراد بنائیں،
جنہیں مرنے کے لفظ سے موت پڑ جاتی ہے،
بہرحال، تخلیقی رائٹنگ کورسز میں، ایسے ٹوٹکے پڑھائے جاتے ہیں، ہاں پھر کہتا ہوں، مذہب فروشی مت کریں۔، وہ اسلامی جماعتیں بہت اچھی طرح کرلیتی ہیں،
باقی، جو اسلامی نہ ہو، محض ‘عوامی’ جماعت ہو، وہ ریاست مدینہ بیچ لیتی ہے، رزلٹ وہی ملتا ہے،
کیا ؟۔کھوتا صفت عوام کا مزیڈ کھوتیا جانا۔۔
پوسٹ – 2021-04-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد