بچپن سے ایک کہانی ، سنائی بلکہ ٹھونسی جارہی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ nایک آدمی اپنے بچے کےساتھ بیٹھا ہوتا ہے ، بچہ کوے کو دیکھ متعدد بار پوچھتا ہے nابا وہ کیا ہے nباپ اس کے بولنے پر اتنا خوش ہوتا کہ بارہااسے جواب دے دیتا ہے وہ بھی بغیر اکتائے۔
پھر وہی بچہ بڑا ہوتا ہے ، اورفطرت کے قوانین کو فالو کرتا اس کا باپ ، بوڑھا ہوجاتا ہے ۔
پھر وہی منظر
لیکن اس بار ، باپ پوچھتا ہے کہ وہ کیا ہے nاور بیٹا کہتا ہے nابا کاں
یعنی ابو کوا ہے nدو تین بار ، پوچھنے پر بیٹا کہتا ہے nچپ کر بڑیا کی کاں کاں لائی اوئ اے
پھر بوڑھا مسکراتا ہے nاور جیب سے پرچا نکال کر کہتاہے
بیٹا جب تو بولنا سیکھ رہا تھا تو تو نے سو بارپوچھا تھا اور میں نے سو بار ، جواب دیا تھا، اب تو تین بارمیں ہی بکواس کرنا شروع ہوگیا ہے
یہ دیکھ میں نے پرچے پر تیرے سوالوں کا کاونٹ لکھ کر لکھا ہوا ہے nیہاں حسب معمول، باپ صحیح اور بیٹا غلط پر ختم ہوجاتی ہے nبس ایک بات نہیں سمجھ آئی nبچپن میں بچہ ، اپنے باپ کا صبر آزمانے کےلیے پوچھ رہا ہوتا ہے یا معصومیت میں ؟
اور بڑھاپے میں باپ ، معصومیت میں پوچھتا ہے یہ صبر آزمانے کے لیے ؟
ہوسکتا ہے ، کچھ زنگ آلود ،میٹھے نوجوان یہ کہیں کہ nبھئی بڑھاپا انسان پر بچپن لوٹا دیتا ہے nتو ان میٹھوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک دوسرا سوال پوچھتا ہوں
کیا اگر بڑھاپا بچپنا لادیتا ہے ؟
تو بوڑھے کو وہ سو بار لکھا گیا پرچہ کیسے یاد تھا ؟
اس کامطلب باپ بڑھاپے کے اس درجے پر نہیں پہنچا تھا، جب انسان کی عقل اور حواس جواب دے جاتے ہیں ، یعنی بچہ معصومیت میں ایک کروڑ بار بھی پوچھتا تو وہ معصومیت ہی تھی کیوں کہ وہ بولنا سیکھ رہا تھا ، باپ نے اگر پانچ چھ بار بھی پوچھا ، تو وہ معصومیت نہیں ، ٹیسٹ کرہا تھا ، گیم کر رہا تھا صبر آزما رہا تھا۔۔ خیر
کہانی سبق آموز صحیح
پر ناقص ہے ، یعنی صرف ایک سائڈ سے لکھی گئی ہےnnاب دوسری بات ، nاگر مان لیں ، کہ باپ معصومیت میں پوچھ رہا ہو ،یعنی سیکھنے کے لیے کہ یہ کون سا پرندہ ہے، اور بیٹا بتا رہا ہے کہ کوا ہے nیعنی باپ خود کو کم علم ظاہر کررہا ہے ، nاب حقیقی لائف میں اس کہانی کو لائیں اور باپ کو کچھ سکھانے سمجھانے کی کوشش کریں تو کہا جاتا ہے ،
ہماری گود میں کھیل کر جوان ہوئے ہو ہمیں سکھاو گے ، لیکن ، جب واٹیس ایپ فیس بک یا سمارٹ فون ، استعمال کرنا سیکھتے ہیں ، تو نہں کہتے کہ ، ہمیں سکھا رہے ہو ؟
اب کوے والی کہانی میں ، نہ سکھاو تو بدتمیز ، حقیقی زندگی میں سکھاو تو ، کہا جاتا ہے ہمیں سکھا رہے ہو ؟
سمجھ رہے ہیں ، کس نے کنفیوز کررکھا ہے نوجوانوں کو nجی ہاں صحیح سمحھے ، یہ ایسی چول سبق آموز کہانی کاروں نے
پوسٹ – 2021-04-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد