حقوق العباد ، فرض سمجھ کر ادا کریں، نہ کہ بے دلی اور پیسو اگریشن کے ساتھ ، احسان کے طور پر جتا کر، کیوں کہ جو جتایا جائے، وہ بوجھ/احسان/اپنی فیس سیونگ، دوسروں کے سامنے اپنا امیج اچھا رکھنے کی نیت سے کیا جا رہا ہوتا یے نہ کہ خوشدلی کے ساتھ فرض سمجھ کر۔۔n اور جو بوجھ، سمجھ کر جتایا جائے، وہ تعلقات میں دراڑ یا پیسو اگریشن کا سبب بنتا ہے، خواہ کوئی کتنا ،مذہب فروش کتنا ہی، قرآن و حدیث بیچ لے۔
پاکستان میں اکثریت دین فروشوں اور بزدلی/پیسو اگریشن کو کور کرنے کے لیے، تعلقات ، پہ مبنی قرآن و احادیث بیچنے والوں کی ہے، کہ یار کچھ کرنے ،کہںنے کی ہمت تو ہے،نہیں تو۔ چلو، اس کم ہمتی کو اسلام کا غلاف اوڑھا دو nایسے کم نسلوں سے بچ کر رہیں۔
اور اپنے والدین، رشتے داروں سے کیا گیا حسن سلوک احسان سمجھ کر ان پہ نہ تھوپیں۔
پوسٹ – 2021-04-20
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد