پوسٹ – 2021-04-14

“خونی” رشتے nnدسویں اور آخری قسطnnفلاح ، سیاسی/سماجی سرگرمیاں ، امت کی اصلاح کا درد ،یا پھر حقیقی ذمے داریوں سے فرار۔nnیہ نشانی ہر کسی پر اپلائی نہیں ہوتی ، کیوں کہ کچھ لوگ واقعتا اصلاح کے مقصد سے اپنا گھر بار ، کام کاج سب مینیج کرکے چل رہے ہوتے ہیں ، لیکن کچھ معاملات اور صورتحال میں ، ایک “خونی” نارسسٹ / خود پسند/ نرگسیت کے ذہنی عارضے کا شکار ، رشتے دار، دانستہ طور پر ، اپنی اور محض ، اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات پر فوکس کرتا ہے ، حتی کہ ، ایسے افراد کو اپنے سگے رشتے داروں ، سے زیادہ ، محض خود میں دلچسپی ہوتی ہے ، اس کے پاس چھوٹوں کے لیے وقت نہیں ہوتا، nاس کی ترجیحات محض ،اپنا وقت اچھا پاس ہوجائے ، اس پر فوکس ہوتی ہیں اور یہی اہم ہوتا ہے nیہ بات ٹھیک ہے کہ ، کچھ وقت اپنے لیے نکالنا ، اچھی بات ہے ، پر محض کچھ وقت ، نہ ، کہ دانستہ طور پر ، ترجیحی معاملات/افراد /چھوٹوں کو، نظر انداز کر کے صرف اپنے کاموں میں لگے رہیں nوہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، اس لیے کہ ، ایسی سرگرمیاں ، جن میں محض ان کی دلچسپی اہم ہوتی ہے ، وہ ، اسے قوت مہمیز،/تحریک مہیا کرتی ہیں ، اسے اس کی نظروں میں ، اہمیت دیتی ہیں ، جس کا وہ بھوکا ہوتا ہے ، اس کو اپنی ہی نظروں میں سند ملتی ہے اب وہ
کام کاج کا جنونی ہونا ، بس کام کام کام ، لیکن سماجی پہلو زیرو، رشتے ناتے ، اہم خونی رشتے ناتوں کی ذمے داریاں غیر اہم ۔۔
معاشرے / سماج کو بہت اہمیت دے کر ، اس کے سامنے اچھا پوز کرنے سے متعلق سرگرمیاں ، چندہ وغیرہ ، سوشل تقریبات میں شرکت ، لیکن اپنوں کے لیے غیر حاضر
نوٹ کیجئے گا ، جو افراد ، چندہ اندھا دھند کرتے ہیں ، خوب مذہب کی طرف مائل ہوتے ہیں ، گھر بار کو چھوڑ کر ، اللہ کی راہ کا نام لے کر فرار ہوجاتے ہیں ، دوسروں کو ، ایمان دلوانے پیچھے گھر والے رل رہے ہوں
سیاسی جلسوں اور پروگرامات میں ، اسلام فروشی کرتے ہیں ، ووٹ کے نام پر، ان میں سے بہت سے خلوص دل سے کررہے ہوتے ہیں ، وہ نارسسٹ نہیں ہوتے ، اپنا کام دھندا گھر بار سب مینج کرتے ہیں ، ہر ترجیحی رشتے اور کام کو ، اہمیت دیتے ہیں nلیکن انہی میں سے کافی افراد، nSocial proofnvalidaton nSelf Importancenوغیرہ کے چکر میِں ، فی سبیل اللہ کی مالا جپ رہے ہوتے ہیں
اندر سے بھوک ہوتی ہے nattention کی nلیکن نام قال اللہ قال الرسول nایسے ہی افراد جب ، اسلامی / مذہبی / فلاحی تحریکوں میں جب داخل ہوتے ہیں ، تو اونچی سیٹ پر بیٹھ کر بھی یہی مائنڈ سیٹ ہوتا ہے کہ nگھر کو رشتے داوں کو جس طرح نظر انداز کر کے آگے بڑھے ہوتے ہیں ، محض اپنے اور صرف اپنے لیے تو آگے چل کر وہ ، ان افراد کو nجن کو وہ اسلام کا نام ، اسلامی نظام کا نام لے کر، مینی پولیٹ کر کے ، اداروں میں لائے ہوتے ہں ، ان کا بھی استحصال کرتے ہیں ، یعنی نظر انداز کرتے ہیں ، کیوں کہ خصلت نارسسزم والی ہوتی ہے
ہہ بھی اک بڑی وجہ ہوتی ہے کہ ایسے افراد کے زیر انتظام چلنے والے اداروں nمیں پروفیشنل ازم ، ورک کوالٹی ، ٹیم منیجمنٹ ، وغیرہ کے مسئلے ہوتے ہیں ، اور نیچے والے n”ان کی میٹھی میٹھی اسلامی باتیں سن کر ،کسی خوش کن مستقبل ، اسلامی نظام کے چکر میں اپنا تیل نکلوا رہے ہوتے ہیں “nجب کہ چپڑی اور دو دو ، انہی نارسسٹ افراد کو مل رہی ہوتی ہے ۔
یہی حال ، اکثر این جی اوز کا ہوتا ہے ، گھر میں نہیں دانے ، خالہ گئی بھنانے nسوشل ورک ، اصل میں ، ذمے داریوں سے فرار ہوتا ہے ۔nnاختتامیہ nیہ تمام نشانیاں ، بیک وقت اور متواتر ایک ہی شخص میں پائی جائیں ، تو ہی اس کی ذہنی صحت پر نارسسزم کا فتوی لگائے ، خصوصا جب آپ کی اس سے کوئی ذاتی ٹسل یا رقابت نہ ہو ، اور آپ اس کو عرصہ دراز سے جانتے ہوں ۔n”خونی” رشتے داروں کی ، نشانیوں پر مشتمل یہ قسط وار سلسلہ ختم ہواnnجلد ملتے ہیں n”خونی” رشتے دار اور ان کے اثرات nیعنی ایسے افراد جہاں پائے جائیں ، وہاں ، دوسروں کا کیا حال ہو رہا ہوتا ہے nnکے ساتھ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.