پوسٹ – 2021-04-13

بندہ کرے تے کرے کی فیر ؟n————————————–nبہت سے دوسرے افراد کی طرح ، ایک صحافی نما چیز کو میرے رویے سے بڑی سوئیاں چبھتی تھیں ،
پہل وہ کرتا، اختتام میں ، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ، وہ محض ایک ڈگری یافتہ کھوتا ہے اور میں صرف زندگی کے دیے گیے کنگھے کو بے دردی سے تجربہ سمجھ کر اپنے گنجے سر پر رگڑتا ہوں۔
علم میں رکھتا نہیں ، انفارمیشن غیر متعلق ہوتی ہے ، اسلیے اکثر افراد علمیت جھاڑنے کے لیے مجھے بھاڑے کا ٹٹو بنابیٹھتے ہیں ، لونڈا بائیس سے اٹھائیس کا ہو اور شادی شدہ نہ ہو، اس سے بحث میں پڑنے والا ویسے ہی بے قوفی کی انتہا پر ہوتا ہے
میں سب کی بات نہیں کرتا، لیکن اکثر بلکہ کافی سے زیادہ اکثر کا یہی حال ہے ، خصوصیت کے ساتھ آج کل کے اس ایج گرو پ کے لونڈے تو انتہائی سند یافتہ قسم کے لہسن ہیں ، سوال گھوڑا کرو، جواب پکوڑا پکڑتے ہیں ۔۔
بات کرو شمال کی ، لاتے ہیں جنوب کی —nاچھا سب نہیں ہوں گے ایسے جو ہیں ان کی بات کر رہا ہوں۔۔
تو بس اپنی ذات پر تو یہ اصول حاوی سمجھتا ہوں کہ اس عمر کے لونڈے سے نہیں اڑنا،ایک وجہ یہ ہے کہ ہم اس غلط فہمی کا شدید طریقے سے شکار ہیں کہ شاید لوگ ہماری بات سننے ، سمجھنے ، ماننے اور عمل کرنے بیٹھے ہیں ۔۔
کوشش کیجئے کسی کی تصحیح کرنے کی — خصوصیت کے ساتھ کراچی میں —nآپ کو نانی یاد نہ آجائے تو کہیے گا
اچھا بیماری بھی زیادہ ہم کراچی والوں میں ہے ۔۔ ہم نے ماننی بھی نہیں ، اور ہم کو منوانے کا بڑا شوق ہے۔۔
سگنل پر، سینما کی قطار میں ، یا کہیں اور ڈسپلن کا ہلکا سا اشارہ تو دیجئے ، آپ چاچا خوام خواہ قرار نہ پائے تو کہے گا، دور کیا جانا ، کسی کو گٹکا تھوکتے دیکھ کر ٹوکئے ، پھر تماشا دیکھئے ، عام زندگی میں یہ حال ہے اور فیس بک پر جو بے چاری ہارمونز کی شدت کی وجہ سے تبلیغ کرتے پھرتے ہیں ، ان کی نیت پر کیا کہیں ، اللہ انہیں اجر دے ، اور عقل بھی کہ
کوئی آپ کی سننے نہیں بیٹھا، کسی کو یہاں آپ سے اپنی اصلاح نہیں کروانی ، سو اگر آپ ڈپریشن سے نکلنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو سوک سینس دینے کی بیماری سے نکلیں – فلاح پاجائیں گے
تو بات ہو رہی تھی ، اصلاح کی بیماری کا شکار اس چوبیس پچیس سالہ کنوارے سے ، جو بدقسمتی سے صحافی بھی تھا، اور صحافیوں کی ساری خصلتوں سے لبریز بھی ۔۔ سوال سوال سوال سوال اعتراض اعتراض وغیرہ وغیرہ
مجھے غلطی کا احساس ہوا کہ یار میں کس طبقے کی تصحیح کررہا ہوں مجھے ہوکیا گیا ہے ؟
ایک تو لونڈا اوپر سے صحافی لونڈا–nاس نے کہاں ماننی ہے۔۔
میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا
یار ایک بات بتاو
تمھیں میرے وجود سے مسئلہ ہے میرے رویے پر اعتراضات ہیں
تو کیا میں کچھ عرصے کے لیے تم سے ، تم بن کر ڈِیل کروں یعنی جیسا تم ایکٹ کرتے ہو میں بھی ویسے ہی کیا کروں ، تاکہ تمھیں تسلی رہے ، کیوں کہ ظاہر ہے صحافی ہونے کے ناطے تم میں تو کوئی خامی نہیں ہوگی
اور باقی لوگ جیسے کہ اس کیس میں ، میں — ہم تو ہیں یہ خامیوں کا مجموعہ– تو کیا کہتے ہو، تم سے چند ماہ تک تمھاری ہی طرح ڈیل کیا جائے ؟ اپنی ساری ذاتی عادات کو سائڈ کر کے —nآپ سوچ سکتے ہیں اس کا جواب کیا ہوگا۔
بے غیرتی بے شرمی سے معمور مسکراہٹ جو اس عمر کے اکثر صحافی لونڈوں کا خاصہ ہوتی ہے چہرےپر سجا کر کہنے لگا
نہیں یار آپ میری طرح نہ ہوں ۔۔ ورنہ یہ تو معاملہ خراب کرنے والی بات ہوجائے گی”nمیں آج تک سوچتا ہوں اس چول ذہنیت کو سامنے والے سے کیا توقع ہوتی ہے ؟
آپ کی اپنی ذات سے بھی یہ خوش نہیں
ان کو ان کی طرح ڈیل کیا جائے تب بھی یہ نہیں مانتے ۔۔
بندہ کرے تے کرے کی فیر ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.