مجھے نہیں معلوم تھا کہ ، آج کے دن تم نے سبز/فیروزی حجاب کیا ہوگا، میں کلر بلائنڈ سا ہوں ، اور جب بات تمھاری ہو ، تو تمھاری پیشانی، سے پھوٹتی تیوریاں مجھے خیرہ کردیتی ہیں ، پھر تمھاری آواز کا زیر و بم – nیہاں ہزار گیارہ سو کلو میٹر دور بیٹھا بھی ، تھرتھلی مچا دیتا ہے، n”دوسرے کاوئنٹر پر جائیے”nیاد ہے نا ؟
جانتا ہوں کہ تم نہیں جانتی تھیں ، تمام کاوئنٹر خالی تھی پھر بھی یہ جیل کے قیدیوں کی شکل والا میرے پاس کیوں کھڑا ہے nبتاوں کیوں ؟ nزمین کے کاغزات دو بار گم کرچکا ہوں ،تاکہ فرد نکالنے جانا پڑے ، اس کے بغیر کوئی بہانہ بنتا ہی نہں کوئی ، کیوں بنے nٹوبہ کرنے بھی کیا جانا ہے ، nپر سنو اے سبز آنکھوں والی نامعلوم گوجری nnیہ سطریں یاد ہیں ؟ nجو تمھارے آفس کے سامنے کھڑے ہو کر سوچی تھیں ، اور اسی وقت طے کیا تھا کہ تمھارے خالی کرسی پہ ، دوسری بار ہجر نے استقبال کیا تھا
تو پھر میں نے کہا تھا نہ کہ nnسنو اس بار تمھاری غیر موجودگی نے، مجھے احساس دلایا کہ اب کی بار میں واپس پلٹا تو،شاید تمھارے دیدار کا مزار بنا کر اسی پہ دو ہچکیاں نذر کردوں گا، اس بار میں تم سے وعدہ نہیں، اس بار نہ اگلی بار،
اب صرف تم انتظار کرو گی۔nnیاد رکھنا اگلی بار میں اجنبی ہو کر پلٹوں گا، اب تمھیں سراغ لگانا ہے، گئے دنوں کی وصل سے سیراب رتوں کا۔
انتظار اب میں کروں گnnدیکھو مارچ انیس کی بات ہے nابھی مہینہ بھی نہیں ہوا ، اور تم ، خود آن پہنچی ، خود یعنی ، بالکل غیر متوقع
مجھے اب انتظاررہے گا
تم ، آو گی یا پھر بیاہ جاو گی nپر میں اب اجنبی ہو کر پلٹوں گا
خواہ nیہ چک چار سو دس سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سفر تک ، چالیس پینتالس منٹ
یہی گانا کانوں میں بج رہا ہوnnاب آٹھ پہر ان آنکھوں میں nکوئی چنچل مکھڑا رہتا ہے ۔nnمجھ تک پہنچنے کے لیے تمھارا شکریہ ادا نہیں کروں گا nپانچ بار میں آیا، اک ادھ بار تم بھی سہی nnابے او
کیا لکھ رہا ہےnnیار وہی جو اراضی ریکارڈ سینٹر– nوہی سبز آنکھوں والا ڈرامہ تیرا ؟
ہاں –nتو یہ تصویر، اینجل آف ڈارکنیس کی ، libby hatch نامی فی میل ولن لیڈ ، کی تصویر کیوں ڈال دی ہے ؟
اوہ شٹ– سوری غلط اپ لوڈ کرد
باز آجا تو–بھوسی ٹکڑے کےnnاچھا سوری
پوسٹ – 2021-04-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد