گراری زدہ ہونٹnnجو ہونٹ تمھیں پُر تشدد پیار پر مجبور کردیں وہ ہونٹ نہیں خنجر کی دھار ہوتے ہیں ، وہ رامپوری ہیں
خنجر کی دھار پر لگا خون کبھی چاٹا ہے ؟ گراری دار خنجر کے دونوں طرف لگا گاڑھا خون ۔۔ خنجر کی ٹھنڈک ، خون کی کھٹاس ۔۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو پتہ ہے کیا بنتا ہے ؟۔۔ ہاں وہ دو ہونٹ ۔۔ جو میرے حواسوں پر اس طرح سوار ہیں جیسے پاکستان کے نوجوانوں پر مومنہ مستحسن کی آنکھیں nلیکن پتا ہے کہ جن ہونٹوں کے بارے میں ۔۔ میں یہ لکھ رہا ہوں۔ وہ ہونٹ مجھے بالکل بھی رومانٹک نہیں کرتے ۔۔ پھر کیا کرتے ہیں ؟n ہوس کا شکار ۔۔؟ نہیں ۔۔ پھر ؟ لگاو ،؟ پسندیدگی؟ ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں وہ ہونٹ مجھے ایسا لطف دیتے ہیں جیسے کوئی سیرئل کلر بے وجہ لوگوں کو قتل کرتا پھرے ۔۔ اسے نہ کسی پر غصہ ہو نہ کسی سے خوف بس وہ انسانوں کو مار کر لذت لیتا ہو نہ میرے لیے وہ ہونٹ ایسی اڈکشن بن گئے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ میں اب نہ وہ ہونٹ دیکھ سکتا ہوں نہ ان کو چھوسکتا ہو۔۔ بلکہ یوں کہو کہ کہ چھونا نہیں چاہتا۔۔ کیوں کہ اگر چھوبیٹھا تو تکمیل کا خدشہ ہے ۔۔ اور تکمیل موت ہوتی ہے کسی بھی کیفیت کی۔۔ مر مر کر زندہ ہونا میرے لیے تو آسان نہیں ۔۔اس لیے فاصلے بڑھائے بیٹھا ہوں ۔۔ کبھی وہ ہونٹ مجھےn میپل لیف لگتے ہیں اور مجھے اپنا آپ کیٹرپلر جیسا محسوس ہوتا ہے ۔۔ لیکن پتہ تو سنڈی کی خوارک ہوتا ہے ۔۔ وہ اسے کتر کتر کر کھاتا ہے ۔۔ اس کی جسم و جاں کا محافظ وہ پتہ ہوتا ہے وہ اس میں چھپ کر رہتا ہے ۔۔ جب کہ میرے معاملے میں ایسا نہیں ہے ان ہونٹوں کی سلوٹوں میں مجھے چھپنے کا کوئی شوق نہیں۔۔ اگر چھپا تو ان سلوٹوں کو کیسے دیکھ سکوں گا ۔۔ وہ ہونٹ آج بھی جب میں تصور میں دیکھتا ہوں تو میری ہنسی نکل جاتی ہے ۔ کبھی کبھِی میں سوچتا ہوں کہ ہنسی کیوں آرہی ہے تو جواب آتا ہے کہ سوچ اگر انسان کے چہرے پر صرف ہونٹ ہی ہوتے تو کیسا لگتا اور پھر میں ہنس کر جواب دیتا خود کو کہ nاگر ایسا ہوتا ۔۔ اور اگر مجھ سے پوچھ کر ہوتا تو میں کہتا دنیا کے سارے انسان اور کم از کم خوبصورت انسانوں کے ہونٹ ان دو ہونٹوں کی سلوٹوں سے تخلیق پانے چاہیں nلیکن پھر آواز آتی یہ تو مبالغہ ہے ۔۔ میں کہتا ۔۔ اسقدر پیارے ہونٹ مغالطہ بھی لگتے ہیں اور مبالغہ بھی ۔ لیکن کیا کریں بنانے والے سے تو غلطی ہونہیں سکتی ۔۔ دیکھنے والا کر سکتا ہے ااسی لیے آپ کو لگتا ہے کہ مغالطہ ہے nایسی ہی تھی وہ ۔۔ مزے دار سے ہونٹوں والی ۔۔ نام نہیں لکھوں گا ۔۔ کیوں کہ نام میں جانتا نہیں ۔۔ ایک فیسٹول میں ملاقات ہوئی ۔۔ ملاقات بھی کیا ہونی تھی وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہاں آئی ہوئی تھی اور ہم اتفاق سےبرابر بیٹھے تھے ۔۔ وہ نقاب میں تھی ۔۔ اس لیے مجھے تو نہیں پتا کہ کیسی تھی nمجھے نقاب کھینچنے کا شوق بھی کبھی نہیں ہوا ۔۔ تجسس لگاوٹ بن جائے تو الگ بات ہے ۔۔ تجسس ایسا نہیں میرا ، کہ نقاب پر ڈاکہ ماروں اور حسن کو مال مسروقہ بنالوں اور حسن والی کو منکوحہ ۔۔ نقاب میں شوخی مچل رہی تھی وہ بات بات پر ہنستی اور میں بہت زور سےیہ خواہش کرتا کہ میں اس کے دانت دیکھ سکوں ۔۔ اس کے ہونٹ دیکھ سکوں ۔۔ کیوں کہ آنکھیں تونظر آرہی تھیں بیچ میں پردہ تھا اور ناک سے نیچے ہنسی کے فوارے بہہ رہے تھے میں بھیگ رہا تھا اس لیے چاہ رہا تھا کہ یا تو یہ ہنسنا بند کردے یا میں کم از کم ہنسی کا منبع دیکھ لوں ۔۔ یہ دیکھنا دیکھنے کے لیے نہیں تھا ۔۔ یہ دیکھنا لگاوٹ بھی نہیں تھی بس اس معاملے میں کر گزرنے کی بات تھی ۔۔ نہ کہ وجوہات سوچنے کی ویسے بھی آنکھ اور ہنسی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ اندر جو چہرہ ہے وہ کم از کم نیپام بم اور زیادہ سے زیادہ ہائڈروجن بم جیسی تباہی برساتا ہوگا۔۔ nمیرے اندر کا کمینہ مرد بولا
ابے ہو سکتا ہے آنکھ اور ہونٹ کے بیچ کا حصہ تیزا ب سے جھلسا ہوا ہو ۔۔ nشریف مرد کہتا ۔۔ نہیں ایسا نہی ہوسکتا ۔۔ ہوتا تو یہ اتنی زندگی سے بھرپور نہیں ہوتی ۔۔ اس کی ہنسی اس کے پوشیدہ حسن سے متعلق ہے اسے پتا ہے یہ مکمل ہے اسی لیے اتنی بے پروائی سے ہنستی ہے nاسے پتہ ہے کہ اس سے خوشبو ہی پھوٹتی ہے اس لیے اسے پروا نہیں کہ نہاوں یا نہیں پرفیوم لگاوں یا نہیں ۔۔ ایک فلاسفر کہتا ہے کہ خوبصورت چیزوں کو اس چیز کی بالکل پروا نہیں ہوتی کہ انہیں چاہا جائے ۔۔ وہ توجہ بھی نہیں مانگتی ۔۔ لیکن وہ خوبصورت ہونٹوں والی ۔۔ کوئی چیز تو نہیں تھی ۔۔ اس کے چہرے سے اس کے ہونٹو ں کو کاٹ لیا جاتا تب بھی وہ چیز نہیں ہوتے ۔۔ وہ ایک مکمل کیفیات کے حامل تھے جس تخلیق میں کیفیات ہوں وہ چیز نہیں ہو سکتی ۔۔ nیہ سب میرے اندر چل رہا تھا اور بار بار اپنی سہیلیوں سے بات کرتے کرتے ہنس پڑتی ۔۔ پاگل کہیں کی ۔۔n خیر مجھے چونکہ آواز نہیں آرہی تھی اس لیے مجھے لگا ایویں ہنسے جا رہی ہے ۔۔ جیسے آپ کے پاس بھاری موٹر سائکل ہو تو آپ ریس دے دے کر جتاتے ہو ویسے ہی شاید وہ اپنے ہونٹوں کی نمائش ہنسی سے کرتی تھی ۔۔ nہائیڈروجن بم کا دھماکہ کھانے کی میز پر ہوا nمیں سمجھا نقاب اتارے گی ۔۔ جب کہ میں چاہ نہیں رہا تھا کہ وہ اتارے ۔۔ مجھے خفیہ پزلز میں بہت مزا آتا ہے ۔۔ لیکن اس کی ہنسی کی جلترنگ اور اس کے ہونٹ جو ان لفظوں کی اسا س ہیں ۔۔ وہ دیکھنے کے لیے میرے اندر کا مرد بچے کی طرح مچل رہا تھا۔۔ نہ کوئی ہوس نہ کوئی آوارگی بس پتا نہیں کیوں ۔۔n اچھا بڑی پریکٹس تھی اس کو ۔۔ اس نے نقاب ذرا سا سرکایا اور اسٹرا نقاب میں کر کے کولڈرنک کے سپ لینے لگی ۔۔ وہ ایک لمحہ بس ایک لمحہ تھا جب میری نظر ان گلابی ہونٹوں پر پڑی ۔۔ میرے اندازوں کو زبان مل گئی ۔۔ میں اپنے اندر کے کمینے مرد پر لعنت بھیجنے لگا کہn دیکھ لے کچھ نہیں جھلسا ہوا سب امن ہے nکچھ سیکنڈ یا شاید آدھے سیکنڈ پر مبنی تھا وہ سب پر وہ اس کے ہونٹوں کی سلوٹ میں لپٹا وہ آدھا سیکنڈ مجھے قلاش کرگیا
۔۔ قاش جیسے ہونٹ جس پر دائیں طرف ایک ننھا سا تل تھا ۔۔ یا شاید مجھے دھوکہ ہوا کیوں کہn وہ مختصر لمحہ میں سنبھال نہیں پایا اور اب یاد نہیں کہ وہ تل تھا یا دھوکہ ۔۔ اگر دھوکہ تھا تو بہت حسین اور اگر نہیں تھا تو کیا کہنے nمیں نے وہ چہرہ نہیں دیکھا ۔۔ وہ مکمل حسن نہیں دیکھا ۔۔ میں ہونٹ دیکھ کر مضمون بھانپ چکا ہوں لیکن چہرے پر جڑے ان خنجر کی گراری زدہ سلوٹوں نے میرے اندر کے اذیت پسند کو جگا دیا ۔۔ میں اب بھی چاہتا ہوں کہ اس کے ہونٹوں کو سگریٹ سے داغوں اس کے ہونٹ کے دائیں طرف جس طرف اس نے اسٹرا کو ایڈجسٹ کیا تھا وہاں کھال کا ایک چھوٹا سا ٹکرا چھیل کر اسے کسی مرتبان میں سجا لوں ۔۔ nمیں بالکل بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کو چوموں۔۔ چومنے سے ہونٹوں کی کشش ختم ہوجاتی ہے ۔۔ ایسے ہونٹوں کی ۔۔ یہ وہ کلاس ہے جس کو بس بندہ سجا کر رکھے اور عقیدت سے دیکھتا رہے ۔
میں بھی وہی کر رہا ہوں۔۔ میں نے ان ہونٹوں کو تصور کے مرتبان میں سجا لیا ہے ۔۔ میرا ہاتھ ہلتا ہے جب ہلتا ہے ان ہونٹوں کی ایک ڈیجٹل تصویر میرے کمپیوٹر کے کینوس پر سحر بن کر اتر آتی ہے ۔۔ اور میں ہلکورے لینے لگتا ہوں ۔۔ nمجھے نہیں تمنا کہ وہ اب دوبارہ ملے ۔۔ حسن دیکھے جانے سے میلا ہوتا ہے ۔۔ ایسے لوگوں پر ہی یہ مثال صادق ہے ۔۔ اگر اس کوئی دیکھے بھی تو شبنم کے قطروں سے ڈھک کر۔۔ تاکہ پاکیزگی برقرار رہے ۔۔ اور آنکھوں کی تسکین بھی ۔۔ جسمانی آنکھیں نہیں ۔۔ روحانی آنکھوں کی تسکین
پوسٹ – 2021-04-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد