مارچ دوہزار اٹھارہ
سوشل سک نیس (social sickness)n———————————–nnتو بات کچھ یوں ہے کہ ۔چند ماہ سے مختلف اافراد کی طرف سے اس طرح کے جملےسنے بھی اور پڑھے بھیn”یار فیس بک میں کچھ نہیں رکھا، ڈپریس ہوگیا ہوں ، لوگوں کے رویوں اور باتوں سے ، ان کی مختلف پارٹیزیا نظریات سے اٹیچمنٹ سے، فیس بک اور یہ سمارٹ مشینیں، ٹیکنالوجی وغیرہ یہ سب مل کر رشتے مار رہی ہیں ، دوستیاں کاٹ رہی ہیں ، لوگوں کی اصل زندگی میں شکل ، اور سوشل میڈیا پر ان کی منافقت، دونوں دیکھ دیکھ کر ، دل خراب ہوتا ہے ، دماغ افسردہ رہتا ہے ۔بیزاری چھائی رہتی ہے ، سوچ رہا ہوں خیر باد کہہ دوں فیس بک کو۔”nیہ تو ہوا وہ جو دوسروں کی زبانی سنا۔ انباکس اور وال دونوں پر ۔
اب بتاتا ہوں وہ جو میری اپنی کیفیات تھیں ، باوجود اس کے ، فیس بک پر سولہ گھنٹے لٹکے رہنا، میری ملازمت ہے ، اس کے مجھے پیسے ملتے ہیں ، میں اپنی ذاتی وال سے کوئی پوسٹ کروں یا نہیں ، کمنٹ کروں یا نہیں، اس سے میری ملازمت پہ فرق نہیں پڑتا، تقریبا دس سال سے ، میرا فیس بک اور سائبر ورلڈ میں موجود رہنا میری ملازمت کا نقاضا ہے ،
اب اگر ایسے کسی بھی شخص پر سوشل سک نیس
طاری ہوگی تو اس کے لیے تو دنیا اندھیر ، یعنی پیسےکمانے کا آسرا بھی خطرے میں اور افسردگی بونس میں ۔
یہ سب پڑھتے محسوس کرتے کرتے ، مجھے فیل ہوا کہ ہوم سک نیس یا سی سک نیس
ٹائپ کی کوئی چیز ہوگی ، آج گوگل پر سوشل سک نیس لکھا تو ایک پوری ریسرچ کھل کر آگئی ، اب ریسرچ وغیرہ میں پڑھتا نہیں ، کہ ہر سال الگ ہوتی ہے ، کبھی کہتے ہیں ، کہ پانی زیادہ پیناچاہئے ، کبھی کہتے ہیں کم پینا چاہئے ، اور سائیکولوجی والی ریسرچ پڑھنا تو اپنے آپ کو مزید نفسیاتی کرلینا ہے ۔۔ اس لیےصرف ٹاپک کی ہیڈنگ ہی پڑھی اور واپس آ کر یہ پوسٹ لکھنے لگا ، کہ ریسرچ ویسرچ کیا پڑھنی صرف ذاتی فیلنگ ، لکھ دیتا ہوں ، اور اس فیلنگ سے آزاد ہونے کے لیے جو نسخے آزمائے وہ تحریر کردیتا ہوں ۔۔ کہ میرا تو اس سے بھلا ہوگیا ہے ۔۔ اب دوسروں کا بھلا کرنے کی مجھے کبھی کوئی خاص تمنا نہیں رہی ، اس عمر میں تو بالکل نہیں ہے کیوں کہ، ووٹ لینے کا کوئی شوق نہیں ، کہ دینے کے لیے اور بھی کافی اچھی اور مقوی چیزیں موجود ہیں ،، اور جتنے بھی سیاسی یا مذہبی چورن ہیں یہ کم ازکم پچھلے سولہ سال سے تو ہوش کی آنکھوں سے نلی فائی ہوتے دیکھ چکا، پھر یہ کہ ، میں بڑا ہو کر حسن نثار نہیں بننا چاہتا ، کہ ٹی وی دیکھ دیکھ کر گالیاں دوں کیوں کہ وہ میں بغیر ٹی وی کے دے لیتا ہوں ، یا پھراس اوور کراووڈڈ ، کئیر فلی پلانڈ اینڈ ویل ڈسٹریکٹڈ شہر کے ٹریفک سگنل پر حشرات الارض کی طرح دست و گریبان ہوں ۔
اس لیے آتا ہوں مدعے پر ۔۔۔
تو سوشل سک نیس میرے خیال میں تو ۔n- دماغ کی ایسی کیفیت، جب انسان چاہتے ہوئے بھی فیس بک یا دوسرے سوشل میڈیا فورم چھوڑ نہیں پاتا۔ اور چھوڑتا ہے تو ڈپریس رہتا ہے ، جوائن کرتا ہے تو ڈپریس رہتا ہے ۔۔
اس کی مرکزی وجہ صرف اور صرف ایک ہے ۔اور وہ ہے ، الرٹس، نوٹی فیکیشن۔کمنٹس در کمنٹس ، سامنے والے کو قائل کرنے کا غِیر ضروری یا تعصبی انقلابی جذبہ ، انقلاب اور گردے کی لیکیج کو ہم معنی سمجھنا کہ جب جہاں آئے ، جس دیوار پر چاہو کر دو۔ یہ سارے بیزاری کے عنوانات اسی وجہ کے گرد گھومتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں مشینوں نے ہمیں غلام بنا لیا ہے ۔۔ جی نہیں ، ہم ایک کلک سے نوٹی فیکیشن بند کردیں جو بار بار بلاتا ہے ، پرامپٹ کرتا ہے مجبور کرتا ہے ۔۔مشین کی مرضی سے کیوں ایکٹو ہوتے ہیں آپ ؟ آپ اپنی مرضی سے مشین کو چلائیں ۔۔ اپنی چوائس پر فیس بک کھولیں ، واٹس ایپ دیکھیں ، ہاں اگر کوئی دفتری مجبوری ہے تو پھر ایک وقت مختص کرلیں۔۔ کیوں بھاگ بھاگ کر جاتے ہیں کسی بھی نوٹی فی کیشن پر ؟ ایسی کیا آفت ہے ؟ صبر آپ میں ہے نہیں ، اور الزام دینا ہے فیس بک اور سمارٹ ڈیوائسیز کو ، آپ نے اپنے دماغ کو اس سے لنک کو کیا ہوا ہے ۔۔ اس کو اپنے دماغ سے لنک کریں کہ جب آپ چاہیں تب استعمال کریں ، نہ جب وہ ڈیوائس ٹرنگ کی آواز سے نوٹی فیکشن دے تو آپ بھاگتے ہوئے جائیں ۔ یہی چیز تو آپ کو افسردگی بخشتی ہے ۔۔
یہ تو ہوا ایک پیراگراف کا یک سطری مسئلہ ۔ ۔
اس سے پہلے جو لمبی تہبند جیسی تمہید باندھی اور جو تہبند ہی کی طرح کھل گئی ۔وہ اس لیے باندھی تھی کہ پوسٹ لمبی کرنی ہے ، گوگل کو کونٹینٹ دے کر خوش کرنا ہوتا ہے ۔ بہرحال ، مسئلہ سمجھ آگیا ؟
حل ۔ مختلف جزیات سے مل کر بہت سادہ سا ہے ۔۔جو کہ میں نہیں سمجھتا اکاونٹ ہی بند کردینا ہے ۔۔
حل یہ ہےn1) سیاسی بھنڈار خانے سے دوری ، ڈاڑھی والا ہو کلین شیو۔n2) سیاسی پلس مذہبی تبدیلی کے پجاریوں سے ایک کلو میٹر کی دوری یعنی ان فالو۔ چاہے کوئی ذاتی زندگی میں آپ کے ساتھ کتنا ہی مخلص اور میٹھا ہو ، وہ اگر سیاسی ہو ، تو اسے کم از کم فیس بک سے ان فالو کردیں، ذاتی تعلق قائم رکھیں ۔n3) مذہبی خلیفہ گیروں اور جنہیں انقلاب جلاب کی طرح آتا ہو ، اس تعفن سے دوری کے لیے انہیں ان فالو کردیںn4) تعصب کے جواب میں ڈبل تعصب دیں ، پر پہل ہرگز نہ کریں n5) فتوی فروشوں سے کوسوں دور رہیں ۔ کسی کو آپ کے ان باکس میں آ کر داعی الخیر کا دورہ پڑا ہوا ، تو جواب نہ دیں ۔۔ کیوں کہ ایک بات سمجھ لیں، آپ فیس بک پر سدھرنے نہیں آئے ، اور کوئی آپ کی بات سمجھ کر سدھرنے بیٹھا نہیں ہے ۔۔ امر بالمعروف کا سبق حقیقی زندگی میں پڑھیں اور پڑھائیں وہ بھی جہاں آپ کو لگتا ہے کہ سامنے والے میں کچھ خیر ہے ۔ساتھ ہی نہی عن المنکر کا حوصلہ بھی رکھیں ۔۔ امر بالمعروف ادھورا ہے و نہی عن المنکر کے بغیر ۔ ایک کا مکی دور نہیں ختم ہوتا، دوسرے کا مدنی دور ۔۔ اس لیے ایسے افراد سے بھی دور رہیں جو آپ کو ادھورے اسلام کی طرف بلائیں ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ کو اگر بنیادی باتیں ہی نہ پتا ہوں تو پھر سوال آُ سے بنتا ہے کہ آپ فیس بک یا سوشل میڈیا کر کرنے کیا آئے ہیں ؟۔
یہ تو ہوئی دوری کی باتیں ۔۔n——————————nاب یہ کہ ۔قربت کس کی اختیار کریں ؟n——————————nیہ آپ کے ذاتی شوق پر منحصر ہے۔آپ کو جس چیز کا شوق ہے آپ ویسے گروپس جوائن کریں ۔۔جیسے میں نے بہت سارے ایسے گروپ جوائن کیے ہوئے ہیں جہاں حسن بکھرا پڑا ہے ۔۔آگے آپ سمجھ دار ہیں ۔آپ فوٹو گرافی کا شوق رکھتے ہیں ، آپ ٹیکنیکل مائنڈ ہیں ، آپ لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں ۔۔ تو ایسے افراد اور گروپ کو جوائن کریں ۔اچھے سیزنز دیکھیں ، کتابیں پڑھیں ، باغبانی ، کوکنگ، آرٹی کرافٹ ، جو شوق ہے پورا کریں ، بس جن سے دوری کا کہا ہے ان سے دور رہ کر دیکھیں فیس بک کا اصل فائدہ سمجھ میں آئے گا۔کم از کم دو مہینے یہ کام کر کے دیکھیں ، فائدہ نہ ہو تو ، آپ کی جوتی ، اور آپ ہی کا سر۔۔
نوٹ: میرا بایاں ہاتھ دکھ رہا ہے اس لیے میں یہ مضمون ختم کرتا ہوں ویسے بھی ، طوالت گوگل جیسوں کے لیے کافی ہے ۔۔ میرا خیال ہےکہ بات کلئیر ہوگئی ہوگی اور بھی کافی پوائنٹس ہیں لیکن شاید بات سمجھ آگئی ہوگی ۔ دوری والے پیرا گراف میں جس کو جس پوائنٹ سے مرچیں لگے۔۔ اس کا مطلب اس میں یہ بیماری ہے۔ تو بجائے تنکنے کے ، کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس جا کر انقلابی ، سیاسی جراثیم نکلوا دیں ۔ افاقہ ہوگا۔
پوسٹ – 2021-04-04
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد