پوسٹ – 2021-04-03

Emotional Intelligence – جذباتی ذہانت nتیسری قسط nجذبات کا نظم و نسق/ قواعد و ضوابط، کیسے بہتر بنائے جاتے ہیں
اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ رہیں ، موجودہ لمحے میں جو سوچ / کیفیت ہو،اس کا پورا ادراک ہو نہ محض سطحی سا جائزہ۔
جذباتی دباؤ کو سہنے/نبھانے/برداشت کرنے (distress tolerance) سے متعلق مہارت پہ کام کیجیے
مختصراً ڈسٹریس ٹالرینس، اس جذباتی مضبوطی یا مہارت کو کہتے ہیں، جو، اسے کسی بھی طرح کے جذباتی گرداب سے نکلنے یا اسے مینج کرنے میں مدد دیتی ہے، خواہ وہ جذباتی گرداب/بھونچال حقیقی ہو یا اس شخص نے (مجھے لگتا ہے، میرا خیال ہے، میں نے سوچا شاید ایسا ہو، مجھے لگا ) کر کر کے، یعنی مفروضوں یا غلط گمان میں پھنس کر بنایا ہو۔اس چیز سے نکلنے یا اسے کنٹرول کرنے کی، مہارت nڈسٹریس ٹالرینس اسکل بڑھاتی ہے، اب یہ اسکل اچھی ہو تو جذباتی نظم و نسق بہتر ہوتا ہے
یہ مہارت بھی ایک پورے مضمون کی متقاضی ہے، جس پہ بات پھر کبھی سہی۔
اس کے علاوہ، مشکل/منفی کیفیات/جذبات سے نکلنے کی راہیں تلاشن کرنا یا سوچنا۔
مشکلات کو مواقع کی صورت دیکھنا، nاپنی گفتگو/ابلاغی مہارت یعنی کمیونی کیشن اسکلز پہ کام کرنا۔
یہ جاننا کہ کسی بھی صورتحال کو ریسپانڈ کرنے کے ایک سے زائد طریقے ہو سکتے ہیں،ان کا انتخاب ، آپ کی مرضی پہ ہے
مسائل / مشکلات کو دیکھنے کا زاویہ بدلیں، حتی کہ اس چیز کی اتنی مشق کیجیے، کہ سوچوں کے پیٹرنز تک بدلنا شروع ہوجائیں ، اس مشق کو ، اس عمل کو، cognitive re-framing، کہتے ہیں، ویسے تو ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ اس چیز کے بارے میں، ایسے سوچو ویسے سوچو، لیکن آف کورس جس پہ گزر رہی ہو، اس کے لیے یہ مشکل ہی ہوتا ہے، مشورے دینا تو سب سے آسان کام ہے، خصوصا اس شخص کے لیے جو اس جذباتی نفسیاتی دباو سے گزرا ہی نہ ہو۔
بہرحال ، cognitive re-framing، چند مثالیں
ایک خاتون اپنی اماں کی مستقل، مداخلت سے اپ سیٹ تھیں، ان کو ہر مسئلہ کی وجہ یہی چیز لگتی، اب ان کی پریشانی کا حل، ان کی سوچوں کا پیٹرن بدلنا ہی تھا انہیں یہ جملہ سوچنے کے لیے دیا گیاn’ آپ کو نہیں لگتا کہ، آپ کی والدہ کی محبت ہے یہ، آپ خوش قسمت ہیں’nایک شخص بہت اپ سیٹ تھا کہ اس کی جاب میں پروموشن نہیں ہوئی، اسے کہا گیا کہ، یہ بتائیں پروموشن نہ ہونے سے کون کون سی مثبت چیزیں ہوئیں، تو اس نے خود کہا کہ ترقی کے ساتھ کام کا اضافی بوجھ بھی آنا تھا۔
بہرحال کاگنیٹو تھراپی حقیقی طور پہ وہی ریفیر کر سکتا ہے جو خود گزرا ہو ، کتابوں سے کہانیاں سنا کر موٹی ویٹ کر کے تھراپی کے نام پہ، مہنگی سکون آور دوائیاں بیچ کر گھر کا چولہا جلانا اور پھر معاشرے کی ذہنی صحت کے ابو بننا یہ ایک الگ ہی مائنڈ سیٹ ہے۔
آخری چیز یہ کہ، اپنے جذبات / احساسات کو قبولیت بخشیں، انہیں اون کریں، ان کا سامنا کریں، تاکہ وہ اندر گھٹن – bottled نہ ہو سکیں۔
مذکورہ بالا چیزوں کو سمجھنے اور اپلائی کرنے سے، nجذبات کا نظم و نسق بہتر بنایا جا سکتا

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.