پوسٹ – 2021-03-07

آنکھیں بند کرتا ہوں ، تمھاری تصویر دیکھتا ہوں ، یہ یاد ہے یہ عذاب پر اسے جھٹلانا ممکن نہیں ، ایام ابہام بن چکے ہیں ، اور مجھے نہیں جاننا کیوں نہ سمجھانا ہے ، کہ کیسے ، میں محض ، تمھارے درد کے تحفے کو تھامے ہوئے ہوں ، یہ مسلسل لگاتار ، بار بار بپا ہونے والی کیفیت ہے ، جو مجھ پر چھاتی جا رہی ہیے ، ہر سمت میں سما رہی ہے ، یہ مجھے توڑ رہی ہے ، یہ مجھے دفنا رہی ہے ، پر دیکھو ، میں اسے سہنے کے لیے تیار ہوں ، میں زنگ آلود ہی سہی ، پر ایک قدیم سا بند ہوں ، میرے دریچوں میں ، بے کفن یادیں پھڑپڑا رہی ہیں ، میں ، پھر بھی ، اسے سہوں گا، میں ، تمھاری اس منافق جنت سے دور جاتا جاوں گا، اور تم ، تمھاری زندگی ، میں زنگ زہر اتتا جاتا رہے گا ، پھر تمھارے سینے میں درد اٹھے گا ، اور پھر — پھر تم – قے کرو گی nجانتی ہو ایسا کیوں ہوگا ؟ nکیوں کہ ، یہ کولڈ پلے کہلاتا ہے میری جان — nاس میں آخری وار سفاکیت کا ہوتا ہے ، اور سفاکیت ، بہرحال جذبہ نہیں ، منطق ہی ہوتی ہے nہاں ، اس کا اثر بہرحال جذبے اور احساسات کے پھڑپھرا کر بسمل ہونے کی صورت نکلتا ہے nاور میں اس سٹِج سے گزر چکا ، تم پر ابھی آنا ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.