پوسٹ – 2021-03-06

نفسیاتی مسائل اوران کی اقسامnnساتویں قسطnnدوسروں پہ بے جا انحصار/ شدید محتاجی کا نفسیاتی عارضہ Dependant Personality Disordernnاس نفسیاتی مسئلے میں، انسان اس خوف کا شکار ہوجاتا ہے، کہ ،اسے اپنی پروا خود کرنے پڑے گی، اپنی ذمے داری لینی پڑے گی، اور سب سے ںڑھ کر، فیصلے خود لینے پڑیں گے، اور پھران کے اثرات یا نتائج کی ذمے داری بھی لینی پڑے گی، جو عموما بھی آسان کام نہیں اس لیے پاکستان جیسے ڈبل سٹینڈرڈز معاشروں میں، دوسرے کے کندھے پہ بندوق رکھ کع چلانے کا رواج ہے، نقصان کا الزام دوسروں پہ، کامیابیوں کا کریڈٹ خود۔۔۔ یہ تو عمومی طور پر معاشرے کاحال ہےn تو پھر بیماری کے عالم میں خوف کا کیا عالم ہوگا۔
اس خوف کا شکار لوگوں میں درج ذیل نشانیاں پائی جاتی ہیں، بے جا مستقلا، اور بے تحاشا پائی جاتی ہیںn(صرف نشانیاں پڑھ کر، خود سے یا دوسروں سے ریلیٹ کرنے سے گریز کریں،ہاں اگر آپ پاکستانی ہیں، اور بدقسمتی ںسے ماہر نفسیات بھی ہیں، تو پھر ضرور کریں یہ کام، کیوں کہ جب تک آپ کسی کو نفسیاتی قرار نہیں دیں گے،تب تک آپ کے بچے روٹی کہاں سے کھایں گے۔۔nnخیر یہ نشانیاں ہیں ان افراد کی۔nnجائز اختلاف کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کہ سامنے والا برا نہ مان جائےnnاہم اور بڑی ذمے داریاں، دوسروں کے کاندھے پہ شفٹ کردیتے ہیں۔nnدوسروں کی خوشی کی بہت پروا ہوتی ہے اس لیے اپنے ہر عمل کے لیے، ان کی تصدیق، خوشی، رضا بہت زیادہ درکار ہوتا ہے، اس لیے مشوروں اور نصیحتوں کا اژدھام درکار ہوتا ہے۔nnویسے توn دوسروں کو خوش رکھنے والا، nلوگ کیا کہیں گے کے چکر میں پھنسا ہوا، شخص،n اکیلا رہ ہی جاتا ہے، nnلیکن اس بیماری کا شکار افراد، جب کسی بھی وجہ سے کسی بھی پیرائے میں اکیلے پڑ جائیں تو، یہ خود کو بہت بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیnnانہیں مسترد کیے جانے کا بہت زیادہ ڈر ہوتا ہےnnان پہ تنقید، پٹرول پہ تیلی ڈالنے کے برابر ہے، حتی کہ ، تنہائی میں ان کی کسی غلطی کو نارمل انداز میں کریکٹ کردیا جائے تو بھی ،انہیں اپنی عزت لٹتی محسوس ہوتی ہے ۔nnبہت ہی زیادہ بھولپن، بچکانہ بات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔nnاکیلے ہونے پہ، نروس ، بے چینی، خوف، گھبراہٹ، نا امیدی، اور پینک اٹیک سی حالت ہو سکتی ہے۔nnاس خوف کے زیر افراد مستقلا دوسروں پہ انحصار کرتے ہیں، اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں، اپنے فیصلوں کے لیے دوسروں کو آگے کرتے ہیں، اور ایسے افراد کو ہر بات میں، دوسرے سے اپروول چاہئے ہوتاہے، کہ فلاں عمل سے دوسرا خوش ہے، یا اس کی مرضی شامل ہے تو وہ عمل کیا جائےگا، مستقلا نہیں،پاکستان میںn’مشورہ سنت ہے’ ، برین سٹارمنگ، اجتماعی شعور کے نام پر، بے عمل ڈسکشنز اور میٹنگز، کے اندر جس طرح، آئیڈیاز کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی ہے، اس پہ خود نظر دوڑا لیں
سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ‘لیڈر شپ’ بیماری نے، کام کو پیچھےچھوڑ دیا ہے
ٹیم سلامت رہے کام ہو نہ ہو
سب ساتھ چلیں ، کام رکا رہے
یہ بات ٹھیک ہے کہ، اجتماعی فہم، برین سٹارمنگ مفید۔ ہوتی ہے، برین ہو تب نا۔۔ انفرادی شعور قائم ہو، تب ہی تو اجتماعی پی بات جائے گی۔
بہرحال دوسروں پہ رکھ کے فیصلے لینا، دوسروں کو خوش یا ان کی تصدیق سے چلنا، nایسے افراد جو فیصلوں کے معاملے میں، دوسروں پہ انحصار کرتے ہیں ، ان کی زندگی میں میں دو ہولناکیاں بہرحال موجود ہوتی ہیںnnان ہے تعلقات تباہ حال ہوتے ہیں
وہ مستقل خوف کی وجہ سے،
براہ راست تنازعے کا سامنا کرنے سے گھبراتے اور سچیوشن چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں،

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.