پوسٹ – 2021-03-02

نفسیاتی مسائل اور ان کی اقسام – چوتھی قسطnnپراگندگی ذہن / منتشر خیالی / ذہنی انتشار کا شکار شخصیت – Borderline Personality Disordernnاس عارضے کا شکار افراد ،نظر انداز کیے جانے، چھوڑ دیے جاے، ترک تعلقات کے ، غیر ضروری، اندھا دھند، اور بے جا خدشات میں گھرے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے، ان میں، nجوا، منشیات، اوور ایٹنگ یعنی باربار کھانا حتی کہ غیر محفوظ جنسیت جیسے رویے جنم لیتے ہیں۔
اکثر اوقات، ایسے افراد کی نظروں میں ان کی اپنی وقعت، میں بہت نازک اور جھلی جیسی ناپائیدار ہوتی ہےn اور ان کے تعلقات بھی غیر مستحکم ہوتے ہیں، بارڈر لائن پرسنالٹی ڈس آرڈر/ ذہنی اتنشار کے عارضے کا شکار افراد کا اندرونی تنازعہ/خود سے کشمکش جب اپنی بلندی پہ ہوتا ہے تو، ان میں خوف/ خدشات، جنم لیتا ہے ، جو غصے کی صورت میں باہر آتا ہے۔
کیوں یہ بات بہرحال حقیقت ہے ، ہر طرح کے ابنارمل غصے کے پپیچھے ، کسی قسم کا عدم تحفظ یا خوف ہی ہوتا ہے ، nخوف کاز ہے ، غصہ ایفیکٹ ہے nکسی بھی مشتعل مزاج یا بے جا غصیلے شخص کا پس منظر ، اس کی جڑیں نکالیں تو کہیں نہ کہیں اس میں خوف ہی ملے گا ۔nnنرگسیت / خود پسندی کا ذہنی عارضہ nnاس ذہنی عارضے میں انسان ، خود کو دوسروں سے ، بلکہ سب سے اہم سمجھنے لگتا ہے ، اس انتہا پر جا کر سمجھتا ہے کہ ، اسسے دوسروں کی حقیقی اور جائز ضروریات / کیفیات کا خیال تک نہیں آتا، بس اپنی ہی پڑی رہتی ہے، ایسے افراد، مستقلا ، تعریف کے بھوکے ہوتے ہیں ، انہیں ، ہر کسی سے ، اپنے لیے تعریف درکار ہوتی ہے ، اس کے لیے وہ ، اپنے کوائف میں جھوٹ تک شامل کرسکتے ہیں ، اپنے بارے میں ، ایسی باتیں بیان کرنا جو حقیقت نہ ہوں ، تاکہ ان کی تعریف ہو ، یہ نشانی ، نرگسیت کے ذہنی عارضے کا شکار افراد میں ، بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ۔
یہ ، پاور ہنگری یعنی ، طاقت کے بھوکے ہوتے ہیں ، اس درجے کے کنٹرول کے بھوکے ہوتے ہیں ، حاکم ہونا چاہتے ہیں کہ ، اگر ، انہیں طاقت نہ مل رہی ہو ، تو ذہن میں تصور بنا لیتے ہیں کہ، میں سب پر فوقیت رکھتا ہوں ، اس لیے ان پر حکومت یا کنٹرول میرا الہامی حق ہے ، nاکثر سیاست دان یا مشہور افراد اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں ، nمجھے کنفرم نہیں ہے ، لیکن ، بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس عارضے کا شکار تھا nاور بھی ہوں گے ، پر بھٹو جیسے کہا کرتا تھا
مجھے پھانسی ہوئی ، تو ہمالیہ روئے گا ، nوغیرہ وغیرہ ، اس طرح کے جملے اور بھی بہت سےسیاست دان ایک درجے پر آ کر ، اس بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں ، لیکن ، اس بیماری کی صرف یہی نشانی نہیں ، سات سے آٹھ نشانیاں ہوتی ہیں ، کہتے ہیں ان میں سے پانچ ایک ساتھ موجود ہوں تو اسے ذہنی بیمار کہا جا سکتا ہے ۔۔ nاس لیے فتوی فروشی سے گریز کریں اور خود پر لاگو کرنے سے بھی nجیسا کہ شروع میں کہا گیا تھا کہ ، یہ مضمون ، دلچسپی کے لیے لکھا جا رہا ہے ، نہ کہ ماہر نفسیات کی طرح لوگوں کو نفسیاتی قرار دے کر ، اور جو نہ بھی ہو اسے بنا کر، اپنا چولہا جلانے کے لیے ۔
خیر ، ایسے افراد جو نرگسیت کے ذہنی عارضے کا شکار ہوتے ہیں ، وہ ، اپنے سے اوپر والوں سے حسد اور رشک کا شکار رہتے ہیں ، nعام معاشرے انہیں ، مغرور کے طور پر جانتا ہے nنوٹ: پاکستانی معاشرہ عام نہیں ۔ اس پر پھر کبھی بات کریں گے ۔۔
مختصرا یہ کہ ، اس معاشرے میں عمومی طور پر ، لاجک اور ادراک زیرو ہو چکا ہے ، یا کردیا گیا ہے، بہت کم ہوں گے جو کامن سینس / نارملائز ہوں گے ، تو ان کے حوالے سے ، ریفر کرے ، اس معاشرے کے معیارات پر خود کو رکھ کر ، خود کو نفسیاتی سمجھنا ، بیکار ہے nnاوہ یہ تو اینٹی سوشل سٹیمنٹ ہوگیا nخیر اینٹی سوشل پرسنالٹی ڈس آرڈر اگلی قسط میں پڑھیں گے ۔۔
یعنی nnاینٹی سوشل / سماج مخالف/سماج بیزار قسم کی شخصیت nکی کیا کیا نشانی ہوتی ہے nnپھر ، بڑھیں گے ، کلسٹر سی میں شامل بیماریوں کی جانب

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.