ڈیجیٹل مارکیٹنگ پراجیکٹ – مراحل ، معاوضے اور احتیاط – گیارہویں قسطnnکاپی رائٹنگ یعنی مواد لکھنے کا کردار اور کی اہمیت ، آپ کی ای میل مارکیٹنگ سروس/پراجیکٹ میں اتنی زیادہ ہے ، کہ یہ آپ کی ای میل اشہتاری یا مارکٹنگ مہم کو توڑ بھی سکتا ہے اور بنا بھی سکتا ہے اس لیے سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ nnای میل مارکیٹنگ سروس کے لیے ، ای میل لکھنے والا کوئ بہت ہی عمدہ اور وقف شدہ سرشار قسم کا شخص ہو ، جو لفظوں سے شاہکار تخلیق کرنے کی اہلیت رکھتا ہو،nnوہ ای میل اشتہارات میں ایسی سطریں لکھے کہ ، صارفین وہ ای میل کھولنے پر مجبور ہوجائیں ، اسے پڑھنے کا چسکہ لگ جائیے ، اس ای میل کے منتظر رہیں اور ، آخر کار ، جس جس تک ای میل پہنچے وہ یوزر کسٹمر بن جائے ، nnیہی مارکیٹنگ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے ، یعنی عام صارف کو گاہک بناناnnکاپی رائٹر ، یعنی یہ سب لکھنے والا ، ای میل مینیجر ، اور مارکیٹنگ کے منصوبہ ساز یعنی سٹریٹیجسٹ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے ، اس میں nnA/B Test یا Split testnnکا استعمال کیا جاتا ہے ، اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ، صارف کے ایک گروپ کو ، ایک پراڈکٹ یا اشہتار سے متعلق ، الگ ای میل کی جاتی ہے ، اور دوسرے گروہ کو ، مختلف الفاظ کے ساتھ ، اسی پراڈکٹ/اشہتار کے ساتھ ای میل بھیجی جاتی ہے ، مختلف طریقے سے تنوع پیدا کیا جاتا ہے ، کبھی ای میل کی سبجیکٹ لائن میں تبدیلی کی جاتی ہے ، کبھی ، اندر کے مواد میں مختلف الفاظ ، اسلوب کا استعمال کیا جاتا ہے ، تاکہ ، بترین نتائج حاصل کیے جا سکیں ، لوگ اکثر ہوچھتے ہیں کہ ، ایک اچھی سبجیکٹ/ہیڈلائن جو ای میل مارکیٹنگ میں استعمال ہوتی ہے ، اور ایک بری سبجیکٹ لائن میں کیا فرق ہے ، ہمارا جواب یہی ہوتا ہے وہی جو ایک ناکام اور کامیاب ترین کاروبار میں ہوتا ہے ، اب بات کرتے ہیں ،nn کہ اس عمل کے معاوضے کا تٰعین کیسےہوتا ہے ، پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ، اس میں لگنے والے وقت اور کام کرنے والے شخص کے تجربے پر منحصر ہے ، اس کے لحاظ سے قیمتیں میں تغیر برپا ہوتا ہے کس لیول اور کوالٹی کا مواد لکھ کر دے رہا ہے ، وغیرہ وغیرہ ، nnلیکن ، ایک مناسب معیاری ای میل مارکیٹنگ مینیجر کے وقت کی قیمت ، کم از کم nnدوہزار روپے گھنٹہ سے آٹھ ہزار روپے گھںٹہ تک جاتی ہے nnاسی طرح ایک مناسب اچھے قسم کے کاپی رائٹر کے فی گھنٹہ ریٹnnڈیڑھ ہزار روپے فی گھنٹہ سے چھ ہزار روپے فی گھنٹہ تک جا سکتے ہیں nnباقی پھر وہی ہے کہ ، آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ، کلائنٹ کون ہے ،پارٹی کیسی ہے ، بجٹ کیا ہے وغیرہ وغیرہ nn جیسا کہ گذشتہ مضمون میں nn خود کار میپنگ لے آوٹ nn Automation Mapping nn کا تذکرہ ہوا تھا ، یہ کام ، ایک سے دو دن لیتا ہے nn اور اتنا ہی nn segmentation managementnn ای میل ڈائجسٹ جس کا تذکرہ بھی گذشتہ مضمون میں موجود ہے ، اس پر دو سے ڈھائی گھنٹے فی ہفتہ لگتے ہیں nn اور ای میل مارکیتنگ کی جو مانیٹرنگ ہے ، وہ دو سے پانچ گھنٹے فی ہفتہ کی جاتی ہے nn ایک کاپی رائٹر کی لکھنے کی سپیڈ کوالٹی مواد کے ساتھ اتنی ہونی چاہئے کہ ، وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں ، دو ای میل ضرور لکھ لے ، یعنی رفتار اور تخلیق ایک ساتھ چاہئے ۔ ہاں کوئی بہت زیادہ مواد ہو تووقت میں ردو بدل کیا جاسکتا ہے nnاور ایک بات یاد رکھیں کہ ، کاپی رائٹر ، مواد کی پروف ریڈنگ بہتری اور کوئی مزید بہتری ہو ، تو اس میں بھی ، دو ڈھائی گھنٹے اضافی لیتا ہے تو ان اضافی گھنٹوں کو بھی ذہن میں رکھیں nnیہ تو ہوا ، اس بات بیان کہ ، اس کام میں کون کون سے افراد، کتنا کتنا وقت لے سکتے ہیں، اسی سے ہمیں معاوضے کا آئیڈیا ہوگا ، اب آخر میں یہ دیکھتے ہیں کہ کہ ان افراد کی خدمات، تجربے اور وقف شدہ nnگھنٹوں کو دیکھتے ہوئے ، ای میل مارکیٹنگ سروس کے مجموعی معاوضے کا تعین کیسے ہوتا ہے nnای میل مارکیٹنگ سروس کے معاوضوں کا تعین کیسے کریں ؟؟
جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ ، ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ کے nnپانچ اہم ترین اور بنیادی مراحل یعنی nnسوشل میڈیا مارکیٹنگnnویب سائٹ سروسnnای میل مارکیٹنگnnپے پر کلک ، یعنی PPC nnاور سرچ انجن آپٹی مائی زیشن ، آسان الفاظ میں گوگل رینکنگnnمیں سے ، تیسرے اہم مرحلے nnای میل مارکیٹںگ سروس کے معاوضوں کا تعینnn، گذشتہ دو کی طرح ، سیدھے سے فارمولے سے کیا جاتا ہے ، nnوہ فارمولا ہے nnمعاوضہ = اخراجات + مارک اپ nnاب یہ مارک اپ کیا چیز ہے ، یہ بتایا جا چکا nnاس کو مزید آسانی کے لیے یہ سمجھ لیں کہ ، یہ منافع کی شرح ہوتی ہے ، جو پرسنٹیج میں نکالی جاتی ہے nnاس میں آپ اخراجات کی مد میں وہ چیزیں وہ قیمت رکھتے ہیں جو مذکورہ بالا افراد کی فی گھنٹہ فیس یا دوسرے اخراجات ، nnاور اس میں جمع کرتے ہیں وہ پرافٹ ، جو آپ اس کام سے چاہتے ہیں ، یہ آپ کے تجربے اور کام کی کوالٹِی ، آپ کی کتنی بڑی فرم ہے ، آفس ہے ، اکیلے کام کرتے ہیں ، سٹاف رکھا ہوا ہے ، وغیرہ وغیرہ ، یہ سب دیکھتے ہوئے طے ہوتا ہے nnاکثر لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ، اچھا اور میعاری مارک اپ کیا ہوتا ہے nnہم انہیں یہی جواب دیتے ہیں کہ nnاس کا کوئی ، بھی خاص فارمولا نہیں nnیعنی آئیڈیل مارک اپ کیا اور کیسے ہوتا ہے ، اس کا تعین، باقاعدہ طور پر نہِں کیا جاسکتاnnہاں یہ ضرور ہے کہ ، اکثر کمپنیاں ، اکثر کاروباری ادارے ، جو پروفیشنل طریقے سے کام کرتے ہیں ، مذکورہ بالا فیکٹرز کو سامنے رکھتے ہوئے nnوہ مارک اپ – پچاس فیصد تک رکھتے ہیں nnاس کا مطلب یہ ہوا کہ nnجو سروش یا جو پراڈکٹ، یا جس چیز پر آپ کے سو روپے اخراجات کی مد میں لگے ہیں nnاس میں آپ پچاس فیصد اضافہ کرکے آگے بیچتے ہیں nnیعنی پچاس فیصد مارک اپ nnیعنی سو میں پچاس جمع کریں تو ڈیڑھ سو روپے کی nnبہرحال ، ریاضی کے فارمولے کے مطابق چلنا چاہیں توnnمارک اپ کا تعین درج ذیل طریقے سے کیا جاتا ہے nnمارک اپ یعنی منافع کا فیصد نکالنے کا فارمولاnnقیمت فروخت -قیمت خرید nnجو بھی جواب آئے nnاسے قیمت خرید سے تقسیم کریں nnپھر جو جواب بنے اس کو ، nnسو سے ضرب دے دیں nnمثلا ایک آئٹم / سروس nnکی قیمت خرید nnآپ کو پڑی ہے چارسوسینتیس روپے کی nnآپ اسے بیچنا چاہ رہے ہیں ، پانچ سوروپے کی nnاس صورت میں مارک اپ کیا ہوگاnn؟؟nnقیمت فروخت = پانچ سو روپے روپے nnقیمت خرید = چار سو سینتس روپے nnفارمولے کے مطابق آپ ہلے ، قیمت فروخت میں سے ، قیمت خرید مائنس کریں گے nnجواب آئے گا ، nnتریسٹھ روپے nnاس کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ nnظاہر ہے ، قیمت فروخت زیادہ ہی ہوگی ، اور مائنس ، زیادہ میں سے کیا جاتا ہے ، کم میں سے نہیں nnہاں آپ کسی “فی سبیل اللہ سیاسی جماعت” کے چنگل میں پھنسے گئے ہوں تو وہاں سین الٹا ہوتا ہے ، انہیں کام کی بہتری سے کوئی سروکار نہیں ہوتاnnکیوں کہ انہوں نے بقول ان کے ، اپنا مقدمہ اللہ کے ہاں ہی پیش کرنا ہوتا ہے ، بیوہ عورتون کی طرح ، یعنی ، سب پروفیشنلز ، کے حقوق مار کر ، خود مظلوم بن جانا nnخیر ان پر کیا وقت ضایع کرنا nnبہرحالnnفارمولے کے مطابق آپ ہلے ، قیمت فروخت میں سے ، قیمت خرید مائنس کریں گے nnتو جواب آئے گا ، تریسٹھ روپے nnیہ ہوا آپ کا ٹوٹل مارک اپ ، رقم یعنی نمبر میں nnاب یہ ، فیصد کتنا ہے nnاس کے لیے آپ اس کو تقسیم کریں کاسٹ پرائس یعنی قیمت خرید ، جو کہ ہے کہ چار سو سینتس روپے nn63/437 = 0.144nnاب چونکہ جواب فیصد میں چاہئے تواس کو nnضرب دیں گے ، سو سے nnتو جواب آئے گاnn0.144 * 100 nn14.4 فیصدnnگویا ، آپ کی وہ سروس/پراڈکٹ/کام جس کی قیمت آپ کو چار سو سینتس روپے پڑی ہے ، اخراجات کی مد میں آپ اگر کلائنٹ کو ، پانچ سو روپے کی بیچیں توnnآپ اس پر ، تقریبا ساڑھے چودہ فیصد مارک اپ وصول کررہے ہیں nnیہ تو ہوا ، ان افراد کے لیے ، جو ، مارک اپ کو ٹھیک سے سمجھنا چاہ رہے تھے ، nnعمومی طور پر ، nnاکثر پروفیشنل فری لانسر ، اس کو یوں طے کرتے ہیں کہ ، nnاور ہم بھی اسی چیز کو ترجیح دیتے ہیں کہ nnآپ ای میل مارکیٹنگ سروس کے ، ایک ، باٹا ریٹ یعنی فکس ریٹ طے کردیں آغاز میں ، جس کا اوسط آپ ، اس طرح نکالیں کہ ، کتنے گھنٹے لگنے ہیں اس کام میں ، اور پھر اس ریٹ پہ کوئی ڈسکشن نہ کریں ، کیوں کہ پاکستانیوں کی عادت ہے ، ڈسکشن کی ذلت اٹھا کر ، “ذرا مناسب کرلو” والی بیماری کا شکار ہوتے ہوئے ، پھر یہ آتے اسی ریٹ پر ہیں ، جو سامنے والا چاہئے ، بس نفسیاتی تسلی چاہئے ہوتی ہیں ان کواور جو ، “اسلام” کا نام لے کر ، چھری پھیرنے والا کلائںٹ ہوتا ہے nnوہ ان سے بھی زیادہ رسوا ہوتا ہے ، کیوں کہ ، وہ گھٹیا کوالٹی پہ گزارا کرلیتا ہے ،بجائے ریٹ بڑھانے کے – یہ تو طے ہے ، پاکستانی میں مذہبی تنظیمیں جو کارکنوں کا پیٹ کاٹتی ہیں ، ان حال عبداللہ بن ابی سے کم نہیں ، اور یہی وجہ ہوتی ہے ، کہ ان سے سیاسی ڈیلنگ بھی ٹھیک نہں ہوتی ، کہ انہوں نے ، کارپوریٹ لیول پر بھی مثبت کردار ادا کرنے میں کوئی خاص رول پلے نہیں کیا ہوتا ، سوائے چند ایک کے ، لیکن ، یہاں ، چند ایک کا تذکرہ نہیں ، اکثر رسوائے زمانہ کا تذکرہ مقصود ہے بہرحال nnنئے فری لانسرز کے لیے ای میل مارکیٹںگ سروس کے معاوضوں کا تعین اور ترجیحات
آپ ای میل مارکیٹنگ سروس کے ، ایک ، باٹا ریٹ یعنی فکس ریٹ طے کردیں آغاز میں ، جس کا اوسط آپ ، اس طرح نکالیں کہ ، کتنے گھنٹے لگنے ہیں اس کام میں ، اور پھر اس ریٹ پہ کوئی ڈسکشن نہ کریںnnپھر اس کے بعد، آپ کتنا منافع چاہتے ہیں ، اس میں ایڈ کریں nnیعنی کام لینے والے کو پتا ہو کہ ، آپ کے پاس آرہا ہے ، فکسڈ ریٹ اتنا تو دینا پڑے گا ، اور اس میں بک بک چک چک نہیں ہے – باقی ، اوپر جو ہو ، اس میں اونچ نیچ سودے بازی بالکل کریں ، اس کی بھی نفسیاتی تسلی ہو ، اور آپ کی بھی کہ ، مجھے کم از کم کچھ نہ کچھ مل رہا ہے nnسوائے nn”اللہ کے لیے کام کرنے” کے آسرے کے nnاب یہ فلیٹ یعنی فکسڈ ریٹ کا تعین ، ان افراد کے فی گھنٹہ چارجز دیکھ کر کیا جاتا ہے جو آپ کے ساتھ ای میل مارکیٹنگ میں شامل ہوتے ہیں nnاس میں ای میل مینیجرnnکاپی رائٹرnnاعداد شمار پر نظر رکھنے والاnnڈیزائنر ، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں nnاب ان کے مارکیٹ ریٹ فی گھنٹۃ کے لحاظ سے کیا ہیں ، یہ ایک مکمل الگ مضمون ہے اس لیے اس پر پھر کبھی بات سہی ، کیوں کہ ، جو مضمون آپ پڑھ رہے ہیں اس میں nn”معاوضوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے پر بات کی جارہی ہے “nnنئے اور تازہ تازہ جونئیر کاپی رائٹر کے فی گھنٹہ چارجز — nnدوہزار فی گھنٹ سے پانچ ہزار فی گھنٹہ تک جاسکتے ہیں nnدرمیانے درجے کے کاپی رائٹر کے فی گھنٹہ چارجزnnپانچ ہزار فی گھنٹہ سے آٹھ ہزار فی گھنٹہ تک جا سکتے ہیں nnاور ٹاپ لیول انتہائی تجربہ کار اور ماہر ای امیل کاپی رائٹر کے فی گھنٹہ چارجز nnبہت زیادہ تنوع لیے ہوتے ہیں nnان کی رینج nnآٹھ نو ہزار فی گھنٹہ سے شروع ہو کر، پندرہ / بیس ہزار فی گھنٹہ تک جاسکتی ہے اور جانی چاہئے nnباقی پھر کلائنٹ کیسا ہے اور آپ کا تجربہ کیا ہے پر ڈیپنڈ کرتا ہے nnگویا جونئیر ترین دوہزار فی گھنٹہ اور سینئر ترین پندرہ سے بیس ہزار فی گھنٹہ تکہ جا سکتا ہے nnیہ صرف ای میل کے کاپی رائٹر کے ریٹ ہیں وہ بھی فی گھنٹہ nnباقی کسی وقت ڈیزائنر اور سٹریجسٹ حتی کہ ، ان سب سروسز کے مخصوص / اوسط /میعاری ، معاضوں پر تفصیلی اقساط لکھی جائیں گی nnبہرحال nnمارک اپ کی جہاں بات ہے کہ ، آپ کے تجربے کے اوپر ہے ، اکثر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ ادارے / فری لانسرnnبیس سے پچیس فیصد کا مارک اپ وصول کرتے ہیں ۔ nnاور جو بہت ہی زیادہ کوالٹی سروس دیتے ہیں وہ اس سے بھی اوپر جا سکتے ہیں ، ساٹھ ستر فیصد مارک اپ تک بھی nnیہ ضرور یاد رکھیں nnکہ جب آپ یہ سیکھ رہے ہوں کہ ، آپ نے ، اپنی ای میل مارکیٹنگ سروس کے معاوضے کا تعین کیسے کرنا ہے ، تو یہ ضرور یاد رکھیں nnآپ ، دراصل ان معاوضوں کے بدلے ، آفر کیا کررہے ہیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے آپ کومثلاnnآپ کو یہ پتا ہونا چاہئے کہ nnکیا آپ کی عمومی حکمت علی ، جو بھی پلان آپ نے کرنا ہے ای میل مارکیٹںگ کے لیے ، اس میں ، آٹومیشن والا عمل درکار ہے ؟؟nnکیا ضروری ہے ، آپ کا ، کاپی رائٹر سے ریگولر کام لینا nnیا ای میل ڈائجسٹ بناناnnیہ سوال خود سے کریں nnکیوں کہ اس میں سے بہت سی چیزیں ، کلائنٹ کے کاوبار کی نوعیت دیکھ کر بھی ، کٹوتی یا اضافہ کی جاتی ہیں nnان سوالوں کا جواب اپنے سٹریجسٹ اور پلانر سے لیں nnاس کے بعد ، کلائنٹ کی بنیادی ضروریات کو سمجھیں ، پھر ایک بنیادی مرکزی nnbaseline costnnاس کلائنٹ کے لیے طے کردیں nnیہاں ، ای میل مارکیٹںگ سروس کے معاوضوں کا طریقہ کار ختم ہوا ، اگلی قسط میں سمجھیں گے nnڈیجیٹل مارکیٹنگ سروس کے چوتھے اہم مرحلے nپی پی سی سروس یعنی پے پر کلک سروس کے لیے معاوضوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے nnاس سے پہلے ، پی پی سی کی بنیادی تعریف سمجھ لیں nnآسان ترین زبان میں ، پے پر کلک یعنی nnpay per click nnجیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ، اس بزنس ماڈل یا سروس کو کہتے ہیں جس میں آپ نے ، فیس بک / گوگل یا کسی بھی سائٹ پر اپنا کوئی اشتہار چلایاnnاور اس اشتہار کو دیکھ کر ، یوزر نے کلک کیا ، اس اشتہار پر ، تو آپ سے یعنی اشتہار چلانے والے سے ، nnفی کلک ، پیسے لیے جاتے ہیں nnمزید آسان کروں تو، یہ انٹرنیٹ مارکیٹنگ میں “لائکس، ریچ، ویو، ، وزیٹر/یوزر” کو پیسے سے خریدنے کا نام ہے ، یعنی ان کے کلکس کوnnاب وہ کلک ، فیس بک ایڈ پر ہو ، یوٹیوب پر چلنے والے اشتہارات پر ہو ، گوگل ایڈسینس پر ہو ، وغیرہ وغیرہ کہیں بھی نظر آنے والے اشتہار پر یوزر کلک کرے گا ، تو، اس کے ہر کلک پر آپ یعنی اشتہار چلانے والے کو پیسے دینے پڑیں گے ، جس کے نیتجے میں یوزر کلک کر کے آپ کی سروس/سائٹ/پراڈکٹ وغیرہ پر آسکتا ہے nnاب اس ماڈل / سروس یعنی پے پر کلک کے معاوضوں کا تعین کیسے ہوتا ہے یہ اگلی قسط میں
پوسٹ – 2021-02-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد