بات جب، کارپوریٹ اور مادی مفاد کی ہو تو، سوشل میڈیا مارکٹنگ /آن لائن چیزیں بیچنے والوں کی اپنی فالوونگ، فرقہ پرستی کے لیول کی ہونی چائے، یعنی کوئی نیا، شخص، انکی پروڈکٹ/سروس کو استعمال کر کے، محض کسٹمر/گاہک نہ بنے، بلکہ اندھا مسلک پرست/ پیروکار/مقلد بنے ۔
اور ایسا، پجاری ٹائپ فین بیس/ یعنی فالوورز کی تعداد، محض اچھی سروس/پروڈکٹ/مواد، فراہم کرنے نہیں آتی۔
خیر میرے پاس تو ویسے بھی کوئی نہیں آتی۔۔ nمم مرا مطلب، پبلک۔
پوسٹ – 2021-01-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد