ہمارے پاس ایسا کیا ماڈل ہے کہ ، اگر فرض کریں ، اسکول مستقل بند ہوجاتے ہیں nیعنی کم از کم پانچ سال تک آن لائن ، تعلیمی نظام پر آجاتے ہیں nتب بھی آپ چاہیں گے کہ ، اپنے ، بچوں کو nانہی سکولوں میں پڑھائیں ، جن کے ہاں ، “لائیو ٹیچنگ” کا کانسیپٹ ، بس یوٹیوب پر ویڈیو دکھا دینا ہے ؟
کوئی گروپ ہے ، جو اس وقت یہ سوچ رہا ہو کہ nتعلیمی نظام سے جان چھڑوانے کا سنہری موقع ہے یہ nپیسے بھی بچائیں ، اور بچوں کو روایتی تعلیمات کے بجائے ، پراپر کام کریں ان پر
گھر تو بیٹھے ہوئے ہیں ہی — nان کی تخلیقی صلاحتیں ابھارنے کا کیسا قیمتی موقع، دوبارہ پلٹ کر آرہا ہے nدوسری بار لاک ڈاون کے نیتجیے میں nاب بھی آپ کا یہی موڈ ہے ، کہ ، آن لائن پڑھا پڑھا کر، منتھلی فیس ، دیتے رہیں ، nکیوں ؟ nچلو پہلے تو پڑھ لکھ کر ، ڈاکٹر انجِیئر بن رہا تھا
اب تو کورونا ہے بغیر پڑھے ہی پاس کروادینا ہے سب کو nتو الٹی میٹلی ، ڈگری یافتہ کھوتا تو بنے گا ہی بعد میں nکیوں نہ ، ایسے ٹیچرز کے ساتھ ملیں ، جو ، آپ والا مائنڈ رکھتے ہیں ، کیوں کہ ، طاہر ہے ، ان کی بھی سیلیری کا مسئلہ ہوتا ہے
سکول کو کریں بائی پاس nاور براہ راست ، استاذہ اور درد دل والے اساتذہ کے ساتھ مل بیٹھ کر ، چھوٹے پیمانے پر ، ایسا نظام ترتیب دیں ، کہ ، کم از کم پہلی سے ،ساتویں تک کا بچہ ، nاس رسمی روایتی اور کافی حد تک ، غیر مفید ، تعلیم سے ، نکل کر کچھ سیکھنے والا بنے nچلیں ، ڈاکٹری جیسی چیزوں کے لیے ضروری ہے یہ تعلیم کیوں کہ ، انسانی جان کا معاملہ بہرحال مقدم ہے nپر ، انجینئرنگ ، کمپیوٹر، سماجیات ، نفسیات ، عمرانیات ، کہانی کاری ، اداکاری ، سکیچنگ ، آرٹ ورک ، وغیرہ وغیرہ ایسے بہت سے ، شعبے ہیں ،جس پر بچے کا رجحان چیک کیا جاسکتا ہے ۔ nہے کوئی جو اس وقت ،ہائے ، بچے گھر بیٹھ گئے کے بجائے ایسے سوچ رہا ہو ؟
پوسٹ – 2020-11-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد