دیکھو بھئی ، بات سیدھی سی ہے ، پندرہ سے پچیس سال کی ، نسل ، جنونی تو ہو ہی چکی ہے ، اس جنون کے اظہار کے مختلف عنوان اختیار کرتی ہے ، اب یہ جنون ایک توانائی ہے ، جسے تم جنریشن گیپ میں ڈال کر ، بھانبھڑ بنا سکتے ہو ، یا ، اس کو کسی آرے لگا کر ، اس سے ، آنے والا دور جو بس دس پندرہ سال دور ہے ، اس کی کاشت کرسکتے ہو،
اب اس کو کس کام پر لگایا جائے اس کی بہت سی شکلیں ہیں
مثلا ، کتب بینی ، مثلا ، لکھنا ، مثلا ، سوچنے کا طریقہ ، مثلا ، سننے کا طریقہ ، مثلا کہنے کا طریقہ، مثلا کئی پروفشینل آئیڈیاز
ان کا جنون ، جوانی ، پھدکتے ہارمونز، یہ تم نہں روک سکتے ، تم نے ایسے لگا دیا فیس بک یو ٹیوب ، سکرینز پر ، ان کا جنون اب یہاں نکلتا ہے ، پر یہاں بھِی کتنا اور کیسے ؟ جب کوئی گائیڈ لائن نہیں
ایک لمٹ ہوتی ہے ، پھر ریڈیائی سکرینوں کا ذہر ان کے جنون کو ، گرداب بنا دیتا ہے
اور پھر چند سال بعد، تم ہی کہہ رہے ہوگے ،
ہم نے تو تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پتا نہیں یہ میرے گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہاں تو آگ لگی ہے ، لیکن وہ چراغ تم ہو ، یہ لوگ ابھی محض موم بتیاں ہیں
ان کو آزادی دو یا نہ دو ، ان کو یہ احساس دے دو کہ تم آزاد ہو کسی بھی سینس میں
یاد رکھنا ، کسی کو آزادی کا سراب دے کر ، اس کی ڈوریں ، اپنی مرضی اور اس کی مثبت سمت میں موڑنے والا جو کنٹرول ہے ، وہ ہر ہر شخص کو انقلاب بنا سکتا ہے — ہر ہر فرد کو شاہکار بنا سکتا ہے –nبے راہ رو ہونے سے بہتر ہے آزادی دو، یا کم از کم ، یہ باور کرواو کہ تم آزاد ہو –
پوسٹ – 2020-11-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد