پوسٹ – 2020-11-24

پاکستانی ماہر نفسیات میں سے اکثر اوقات تو روزی روٹی کی وجہ سے ، دوائیاں بیچنے کے چکر میں ، انے وا بیماریاں ایجاد کررہے ہوتے ہیں nیا پھر ، ان کا مشن ہوتا ہے ، پاکستانی سماج کی موجودہ حالت کو”نارمل قرار” دینا ، nارے بھئی سب شور بھرے ماحول سے برا نہیں مانتے تم کیوں ، مان رہے ہو
ارے ، بھئی ، ساری دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے ، تو تمھیں کیا ہے
ارے یہ سب چلتا ہے ، چھوڑو تم یہ گولی کھاو nاب سوچیں nایک اسلحہ بنانے والی فیکٹری ہے ، اس کا رزق کیسے چلے گا ؟ جنگوں سے رائٹ ؟
ایک سکون آور بنانے والی فیکٹری ہے ، اس کا رزق کیسے چلے گا ؟ نارمل کو نفسیاتی قرار دے کر ، نفسیاتی بڑھانے سے ، یا ان کا علاج کرنے سے ؟
مطلب ، موسٹ آف دی ٹائم یہ ، ماہر نفسیات ، یہ لوگ ، کیا مطلب فی سبیل اللہ ، امت کی فلاح بہبود کے لیے ، ایف سی پی ایس ، ایم آر سی پی ایس ، وغیرہ جیسی مہنگی ڈگریاں لے رہے ہوتے ہیں ؟
نہیں ، مطلب ، کچھ ہوتے ہوں گے ، واقعی نیک دل ، پر اکثر ، کیا ، واقعی چلہ چار مہینہ لگا کر ، ماہر نفسیات بنے بیٹھے ہوتے ہیں ، ٹھِیک ہے ، کمانا ان کا حق ہے ، نو اشیو
پر ان کی کمائی ، ذہنی امراض ختم کرنے سے بڑھنی چاہئے ، تو ذہنی امراض کیوں بڑھ رہے ہیں ، nکیا کہا ؟
جب نواز شریف پھنستا ہے بارڈر گرم ہوجاتی ہے –nاوہ یہ بات کہاں سے آگئ
ہمیں تو پہلی پتا تھا ، تم ، بائِ پولر کے مریض ہو nچلو بھیی لما پاو اینوں وی ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.