میرے پاس اکثر ، نیوز ویب سائٹس کی مینجمنٹ کے پروجیکٹ آتے رہتے ہیں ، یعنی کی ورڈ رینکنگ ، یا پھر گرافکس ، یا پھر ، لے آوٹ یا پھر ، کسی اور طرح کی سروسز
یعنی فرسٹ ہینڈ نیوز ،
کبھی کبھار تو صحافیوں اور رپورٹرز کی ٹیمز کے ساتھ بیٹھ کر ، کام کرنا پڑتا ہے ، کونیٹنٹ وغیرہ کے معاملے میں ، یعنی کس طرح ایس ای او پر کام کیا جائَ وغیرہ وغیرہ
پر مجھے واقعتا ، پورے دن کی خبروں کا نہیں پتا ہوتا کہ ، آج کس نے کیا کیا ، خصوصا پاکستان کا تو بالکل نہیں ،
پتا نہیں پھر کیسے ، لوگ یہ بکواس کرلیتے ہیں کہ ، کرنٹ افئیر جاننا ضروری ہے
نہیں بھئی ، نہیں ضروری ؟ کیوں ضروری ہے ۔ تجزیہ نگار ہو ؟
بھوس**ی کے جو جاب ہے ، وہ پراپر کرو ،
اور اسی سے متعلق ، خبریں دیکھو بس، بلکہ خبریں کیوں دیکھنی ، جاو مرو ، کتابیں پڑھو، اپ گریڈ کرو خود کو، اور اتنی ریڈر شپ چڑھی ہوئِ ہے تو اپنی ہی فیلڈ سے متعلق چیزیں پڑھو ، انہی لوگوں میں اٹھو بیٹھو ،
کرنے کو کچھ نہیں ہوتا جن کے پاس ، وہی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ، خبروں کا پتا ہونا چاہئے ، وغیرہ وغیرہ ، تیرے سے گھر میں لیتا ہے کوئی رائے ؟
کسی اہم معاملے میں ، ڈسکشن ، کے بغیر ، تیری یک سطری بات پر کوئی کان دھرتا ہے جو یہاں خبریں پڑھ کر ، بکواس کررہا ہوتا ہے
چلو صحفایوں کی تو روزی روٹی ہے ان کی تو فیلڈ ہے ، تو کون ہے بے ، ؟
جس کی وال پر ، بول و براز کی طرح خبریں بکھری ہوتی ہیں
چو**ئے کہیں کے ۔۔ بلکہ یہں کے۔۔
پوسٹ – 2020-11-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد