پوسٹ – 2020-10-13

جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – سترہویں اور آخری قسط nnاس جذباتی طاعون سے کیسے بچا جائے nیہ بنیادی اور آسان سا سلوشن ہے nلیکن اس پر عمل ، بچوں کے تھرو ہی ہو سکتا ہے nاپنے بچوں کی پرورش ، اس طرح کریں کہ وہ اظہار سے نہ ڈریں nان میں اہلیت ہو ، تسلی بخش اظہار کی ، جذباتی ہو ، پروفیشنل ہو ، اپنی بات کرسکتے ہوں nاور یہ بہت شروع کا معاملہ ہے ، خصوصا جب وہ پانچ سے دس سال کی عمر میں ہوں nایسا کرنے سے ، ان کو ملنے والا اعتماد ، ان کے اندر منفی انرجی بھرنے سے روک دے گا nجو کہ آگے چل کر ، تباہ کن ثابت ہوتی ہے n(جو حشر آج ہم ، پچیس سے چالیس کی عمر والے افراد کا دییکھ رہے ہیں)nیہ اظہار کا دھماکہ ہے ، جس کے چیتھڑے ، اب کم از کم ، پندرہ سال مزید اٹھانے پڑیں گے nہمیں ، مزید افراد کو ، شعور دینے کی ضرورت ہے nسماجی رویوں ، اظہار ، گفتگو کی تمیز ، جذبات کے مناسب اظہار کے فورمز ، محبت/وحشت/جنس اس سب کو افسانوی بکواس سے نکل کر ، حقیقت میں سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے nورنہ ، یہ طاعون جتنا سرایت کرچکا ہے ، یہ ہمارے اگلی دو نسلیں ، بھی کھا جائے گا nاور یہ کام ریاست نہیں کرے گی nکوئی لیڈر ہی کرے گا
کوئی مذہبی پیشوا نہیں کرے گا
یہ والدین کریں گے
اگر وہ خود ، اس جذباتی طاعون سے خود کو بچا سکیں nباقی مرضی ہے ، ایسے مریضوں کو دیکھ کر ، لطف بہرحال بہت آتا ہے ۔۔خصوصا جب وہ سوشل میڈیا پر ، تین چار روپے کی چیزیں پڑھ کر ، پندو نصائح کھول کربیٹحے ہوتے ہیں تو ان میں یہ طاعون کلبلاتا نظر آرہا ہوتا ہے ، اور انہیں لگتا ہے وہ کچھ بھلائی کررہےہیں ، نہیں ، ایسا نہیں ہے — وہ اپنے جذبات وینٹ آوٹ کررہے ہوتے ہیں nاور دنیا ہنس رہی ہوتی ہے ۔ n

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.