جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – تیسری قسطnnجب بھی ایسا معاملہ دیکھیں کہ ،
کسی ایک شخص کی بے جا غیر منطقی عدم برداشت، اور بار بار ، ردعمل دینا ، جس کے پیچھے محض جذبات کارفرما ہوں ، اور لاجک ، یا تو ادھوری ہو ، یا پھر ہو ہی نہیں ، ایسا فرد اگر دوسرے کو بھی ، اس چیز پر ، پلگ ان کرلیتا ہے کہ ، وہ ایسے شخص/معاملے ، میں تباہ کن/منفی کیفیات کے ذریعے ہی ریسپانس کرے ۔۔ تو ییہ سمجھ لیں
سامنا ، جذباتی / ردعمل / حساسیت کے طاعون نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ہے ۔۔
بدقستمی سے ، اس مہلک ، منفی توانائی کی ماہیت /نوعیت، آفاقی ہے ، اور کوئی بھی ، اس کا شکار ہو کر ، اسے پھیلا سکتا ہے ، کیوں کہ، ہر شخص ، کسی کسی طرح ، گھٹی ہوئی نفسیات کا شکارہے ، اسے اپنی کفیات کا ، مکمل ، وینٹی لیشن ، نہیں مل رہا ، یا کم از کم ، مطمئن حد تک نہیں مل رہا
یہ بات اتنی گھسی پٹی ہے کہ دہرانا بے کار لگتا ہے لیکن ، حقیقت بھی یہی ہے کہ ،
انسانی صحت کی کنجی/بنیاد/اساس ، اطمنان ہے ، حقیقی اطمینان
اور حقیقی اطمینان ، صحت مند سماجی رویوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے
اس کو یوں سمجھیں ،
محض جنسی عمل ہی ، اطمنان کا سبب نہیں ، بلکہ ، مکمل ، لذت سے بھرپور سرشاری بخشتا، مطمئن کردینے والا جنسی عمل ، باعث تسلی ہے ۔
اب اگر کوئی شخص، کسی بھی طور ، مکمل طور مطمئن ہوگا ، جنسی جذباتی سماجی نفسیاتی کسی بھی طور ،
تو کیا اسے پروا ہوگی کہ ، دوسرے کیا کررہے ہیں؟
بلکہ ، اگر کوئی شخص خوش بھی ہے اور مطمئن بھی ، تو اس بات کا چانس زیادہ ہے کہ ، اسے دوسروں کو خوش دیکھ کر بھی خوشی ہی ملے گی ۔، اتنی خوشی ، جتنا وہ شخص ان کے لیے میٹر کرتا ہے ۔۔
ہاں یہ بات طے ہے کہ ، وہ دوسرے افراد کی خوشی سے ڈسٹرب نہں ہوں گے ۔۔ کوں کہ ، خود بھی خوش ہوں گے ۔۔
پوسٹ – 2020-10-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد