یار یہ تقریبا سارے، یوتھئے اتنے جاہل، بدتمیز اور تاریخ سے مکمل نابلد قسم کے پالشئے کیوں ہوتے ہیںnnیہ سٹیٹمنٹ غلط ہے۔
تو صحیح کیا ہے nبھئی، وہ محض اس لیے جاہل نہیں کہ یوتھیے ہیں، بلکہ انہیں جاہل رکھا ہی اس لیے گیا ہے کہ وہ یوتھیئے بنیں ۔nnمطلب؟nnعمران خان ہو، مودی ہو یا ٹرمپ، nان کے سپورٹر، زیادہ تر جنریشن زی یعنی ،انیس سو پچانوے سے دوہزار دس تک پیدا ہونے والے افراد ہیں
انہیں پچانوے کے بعد سے تاریخ، تعلیم، لرننگ ، محنت، تحقیق، چھین کر ٹیکنالوجی تھما دی گئی۔ nاور پھر بعد میں گوگل/فیس بک کی رائے، ان کا نظریہ بن گئی۔۔ nتو پوری دنیا میں ایسے افراد تیار ہوگئے۔۔ جو ایسے جوشیلے خطیب منفی لوگوں کو، ظاہری بنیادوں پر اچھا سمجھ کر سپورٹ کریں، کیوں کہ جنریشن زی جس عمر میں ووٹ دے رہی تھی اس وقت، ان کی نفسیات/ ہارمونل کنٹرول ، خصوصا ایڈرینالین (جوش غصے والا کیمیکلn بیلینس ہو ہی نہیں سکتا،
ایج ہی ایسی ہوتی ہے، جوشیلی ٹھاں ٹھوں اچھی لگتی ہے وغیرہ وغیرہ۔nnتو پھر اب کیا ؟nnاب بس کوشش کروnnجنریشن الفا یعنی وہ بچے جو دوہزار دس سے آن ورڈز دوہزار چوبیس تک پیدا ہوئے یا ہونگے، ایسی نہ ہو، یہ اس دور کی آخری ٹرین ہے جو مس کردی تو آپ اپنے لائف ٹائم میں تو کوئی بھلائی نہیں دیکھو گےnnکیوں کہ جنریشن زی والا زہر ختم /کم ہوتے دس پندرہ سال لگنے ہیں
جنریشن الفا اس وقت ووٹ ڈالنے کے قابل ہو چکی ہوگی، اگر آپ نے محنت نہ کی تو یہ جنریشن زی سے بی زیادہ تںاہ کن ہوگی اور پھر مزید تیس سال جائیں گےnnیے آپ کے پاس اتنی عمر/توانائیاں ؟
پوسٹ – 2020-10-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد