آج کل کے ، مرد، شدید رزیل ہوچکے ہیں ، ورنہ ، فیس بک پر ، تبلیغ کرنے والی عورتوں کو ، ایسا کوئی شوہر مل جائے جو اسے سہاگ رات پر ، وضو کروا کے ، ساری رات تلاوت / نماز میں لگا کررکھے ، اور صبح اٹھتے ہی روزہ رکھوا دے ، اور پھر کم از کم ، اس وقت یہ معمول رکھے جب عورت کو ہر طرف سے یہ طعنے پڑھیںn”گڈ نیوز کب دے رہی ہو”nاور پھر اسے سمجھ آئے ، کہ وہ کیا زہر بانٹتی رہی تھی شادی سے پہلے
اور اب اسے وہی پلٹ کر مل رہا ہے
اولاد کی جگہ ، یعنی اسلامی تعلیم ، خالی گود ،
تب ان ، پاکباز نفسیاتی مریضاوں کوعقل آنا شروع ہوجائے گی
پر ، جیسا کہ پہلے کہا
مرد تیار بیٹھے ہوتے ہیں ، ان کے جسموں کے لیے اپنا استحصال کروانے ،
نیچے لگنے کے لیے پھر تیار بیٹھے ہوتے ہیں ۔
، ان کے بس کی چیز ہے نہیں یہ۔ بہرحال ، غیر فطری حد تک ، تبلیغ کے مرض کا شکار ، پاکباز پاکستانی اوورایج کنواریوں کا علاج ، یہی ہے ،
پھر جاگے گی ان کی صحیح والی نسوانیت ، کہ تم جس کام کے لیے دنیا میں آئی ہو ، وہ کرو، تبلیغیں نہ کرو، تم سے نہیں سیکھنا ، اسلام/اصلاح/اچھا برا ، جس کی نیت ہوتی ہے ، وہ سمجھ ہی لیتا ہے یہ سب ، جس نے نہیں کرنا ہوتا ، اس کو فرق نہں پڑتا پھر کہ ، تم ، رابعہ بصری بن کر بھی آجاو، سمجھیں ، سو میری جان ، اپنے رول تک محدود رہو ، عورت بن ، اپنے مرد کی ، ماں نہ بن اس کی ۔
پوسٹ – 2020-10-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد