تعلق جب مردہ ہو چکا ہو تو، اسے زندہ کرنا ، خصوصا اس وقت جب دوسرے فریق کی کوئی نیت ہی نہ ہو، محض وقت اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے، اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے تو، خود کو، کیفیات کے بوجھ سے مکمل طور پر آزاد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، نہ کہ ، تعلق میں مصنوعی تنفس، پھونکنے کی، جتنی جلدی، تعلق کے ڈیڈ ہونے کو قبول کر لیں گے، اتنا آپکی ذہنی اور جذباتی صحت ہے لیے فائدے مند ہے، کیوں کہ دوسرا فریق’فرق نہیں پڑتا٫ والے مرحلے سے ، بہت آگے نکل چکا ہوتاہے، اس کے ساتھ خود جو گھیسٹتے رہنا خود فریبی کے سوا کچھ نہین

اترك رد