کسی گروپ میں ایک پوسٹ دیکھی ، nجس کا لب لباب یہ تھا کہ ، ایک طلاق یافتہ عورت/اس کی فیملی نے ، اس کا دوسرا رشتہ اس لیے منع کردیا کہ ، انہیں ، مذہبی ہونے کے باوجود ، مادیت پرستی پسند تھی ، یعنی ، بڑا گھر بزنس یہ سب ہو وغیرہ وغیرہ nان صاحب نے اس انکار کے بعد کہا کہ ٹھیک ہے ، اب پاکستانی عورت سے شادی کرنی ہی نہیں ، یہ عورتیں اس قابل ہی نہیں ۔n شاید اس بات کو لوگ مذاق سمجھیں کیوں کہ ، یہاں ، اکثریت بکواسیات کرنے بیٹھی ہے ، پر ، ایک بات بتاوں ، لڑکوں میں ایسی سوچ آنا ، الارمنگ ہے ، آج ایک کہہ رہا ہے کل کو ، بہت سے کہیں گے ، تو یہ والدیں جو آج بیٹیوں کو اے ٹی ایم مشین بنائے گھومتے ہیں ، اس وقت ان کو سمجھ آجائے گی – میں نہیں کہتا بیٹی کنویں میں پھینک دو ، پر ، وہی بات ، یہ سوچ کتنے معاملات کے بعد جمنا شروع ہوئی ہے ، کہ پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنی ہی نہیں ۔۔ جب مال دولت ہے تو پاکستانی لڑکی سے کیوں کریں ، باہر جا کر کیوں نہ کریں nمیں منتظر ہوں ، رشتوں کے انتطار میں ، بوڑھی ہوتی عورتیں جب ، اپنے آپ کو ، اوراپنے والدین کو کوسیں گی — nآج نہیں ، آج سے چند سال بعد ، آ ج تو صرف ہسٹیریا کی مریضہ بنتی ہین nبہرحال ، پھر کہتا ہوں ، اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ، آنکھ بند کر ، جہاں جو مرد کہے شادی کرلو ، پر ، یہ سب ہے ، بہرحال ، الارمنگ ۔

اترك رد