کوئی تارہ چمک روح میں ، اور مجھ کو راہ دکھائے nکوئی کرم ہو سونے ساز پہ اور دھن پوری ہوجائے nاک لے چلے ، کچھ سر بہے ، یہ سلسلہ چلتا رہے ،n کبھی بول کے ، کبھی بن کہے ، اک بات سی ، چلتی رہے ۔
کوئی تارہ چمک روح میں ، اور مجھ کو راہ دکھائے nکوئی کرم ہو سونے ساز پہ اور دھن پوری ہوجائے nاک لے چلے ، کچھ سر بہے ، یہ سلسلہ چلتا رہے ،n کبھی بول کے ، کبھی بن کہے ، اک بات سی ، چلتی رہے ۔
اترك رد