حرام کو فروغ دینے میں ، ذات برادری / سگے / خونی رشتوں کا ، پورا پورا ہاتھ ہے ، اور اتنا ہی ہاتھ ، ان کا بھی جو ، جم کے کھڑے نہیں ہوتے ، ایمونشل بلیک میلنگ ، دو آنسووں ،اور چند دباو بھری باتوں میں آ کر ، حلال سے پیچھے ہٹ جاتےہیں nجنرلی ،یہ پورا سماج ، منافق ، حرام کو فروغ دینے والا ، حلال سے روکنے والا ، حلال ، کے لیے کھڑے ہونے والے کی کمر میں چھرا مارنے والا ہے ۔۔ nاگر کسی نے یہ سمجھنا ہے کہ n” ابراہیم ، اپنی ذات میں ایک امت تھا “nیعنی ، پوری دنیا باطل تھی ، اور ابراہیم ، حق پر تھا ، nتو وہ پاکستانی سماج میں ، حلال کی بات کر کے دیکھ لے

اترك رد