جذبات نگاری کے نام پر، ڈپریشن تخلیق کرنے والے، ادیب اور سورا، سوری، شعرا(سب نہیں، صرف رونے دھونے اور منفیت پھیلانے والے) بھی، سوسائٹی کو سبوتاژ کرنے میں، اتنے ہی، حصے دار ہیں جتنے، سیاست دان اور انہیں، ہمارے سروں پہ بٹھانے والے جنرلز۔nnایکطبقہ، ملک کی ، اکانومی کی، نظام تعلیم کی مارتا رہا،۔دوسرا، سماج کے دماغ کی۔۔

اترك رد