ایک صاحب کا آنکھوں دیکھا واقعہ۔nnآفس میٹنگ میں ، ایک صاحب نے ، کسی پراجیکٹ میں ، ٹانگ اڑاتے ہوئے ،nnایک ایسا مشورہ دیا ، جس پر کلائنٹ کی ڈیڈ لائن سڑ گئی ۔nnان صاحب کو ، نہ یہ پتا تھا کہ ڈیڈ لائن کیا ہےnnنہ یہ معلوم تھا کہ ، اس پراجیکٹ میں کلائنٹ کا کتنا فیڈ بیک موجود ہےnnنہ ہی یہ پتا تھا کہ ، اس پراجیکٹ پر ، کتنا وقت لگ چکا ہےnnحتی کے، سٹاف کو ای میل تک کی جاچکی ہے کہ ، اس کام کو ایسے اور اس طرح ، اتنے دن بعد ، ہونا ہےnnپر وہ صاحب سو کر اٹھے ، ان کی انگلیاں کھجلائیں ، پرانی ایمیلز ، کو پڑھے بغیر ، آفس کی گروپ چیٹس کو دیکھے بغیر ،nnانے وا، ایکnnراہ زنی سوری رائے زنی کی قے پر مبنی ای میل کردیnn”ایسے نہیں ایسے کرلیں ، ڈیڈ لائن ، یہاں تک لےجائیں “nnٹائپ الفاظnnاس کے بعد ،nnپراجیکٹ لیڈ نے جو ایک خاتون تھی ، بہت ہی دلار سے اسے ذلیل کیا ، اور کیا کرتی ، کہ ، پراجیکٹ ڈارئیکٹر نے ، تو لال لال فونٹ سے ای میل لکھ دی تھی ، وہ تو لیڈ نے کہا ، کہ میں دیکھ لیتی ہوں، سنبھال لوں گی ، آپ تسلی رکھیں اور ، پراجیکٹ ڈیڈ لائن قریب ہے ، ایسا نہ ہو ، منفیت پھیل جائے ، سو ذرا رکیں ۔nnبہرحال ۔nnخیر ، اس ای میل کا متن کچھ یوں تھاnnاگر آپ کی انگلیوں اور زبان کو ، سکون نہیں ، تو کم ازکم ، رائے دیتےوقت ، یہ ضرور سوچ لیا کریں ، کہ ، رائے ، کب کہاں ، کس کے سامنے ، کتنی اور کیوں دینی ضروری ہےnnبس ، منہ سے رال کی طرح ، اپنا مشورہ گرا دینا ، بے سوچے سمجھے اور بعد میں سوری کرلینا ، یہ ایک انٹل ایکچوئل نہیں ، ذہنی مریض معاشرے کی نشانی ہوتی ہے ۔

اترك رد