پوسٹ – 2020-04-09

دوسری شادی کرنے کے لیے ، پہلی بیوی کا تحریری اجازت نامہ اور یو سی کاونسل کا سرٹی فیکٹ ، قانونی طور پر درکار ہوگا ، نہ مہیا کرنے کی صورت میں ، قاضی نکاح خواں وغیرہ کو ، نکاح رجسٹر کرنے کی اجازت نہیںnnاور پہلی بیوی ، کیس بھی کرسکتی ہےnnیہ قانون آیا تھا دوہزار بیس کے آغاز میںnnاب سننے میں آرہا ہے کہ ، یہ قانون ، وفاقی شرعی کورٹ نے ،nnNull and Voidnnقرار دیا کہ ، یہ قانون بذات خود ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہےnnاس لیے اس کا نفاذ نہیں کیا جائے گاnnاور اب یہ معاملہ ، سپریم کورٹ میں جا چکا ہے ،nnکہ اس قانون کو رہنا چاہئے یا نہیںnnوکلا حضرات کا ماننا ہے کہ ، یہ قانون ، جلد یا بدیر منسوخ ہوجائے گا ،nnکب ہوتا ہے پتا نہیںnnپر زیادہ چانس ہے کہ ، منسوخ کردیا جائے گاnnیہ بات ابھی ایک وکیل صاحب نے کہی ہے ،nnجو غالبا ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے وکیل ہیںnnمیرے دوسوال ہیںnnکیا یہ خبر میڈیا پر سنی کسی نے ؟ یاد رہے کہ ، معاملہ کورونا سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں جا چکا ہے ،nnدوسرا سوالnnکیا مذکورہ خبر درست ہے ؟nnکوئی وکیل صاحب کنفرم کردیںnnاہم نوٹ: لول

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.