پوسٹ – 2020-02-11

#3nnیاداشت nn پتھرکے دور کا انسان ، بمقابلہ آج کے اذہانnnاس چیز کی مشق کیجئے کہ انسانی دماغ اپنی فطری کمزوریوں کو طاقت میں بدل سکتا ہے ،nnیہ الگ بات ہے کہ ، اگر آپ ، بتائے گئے اصولوں پر چلنے کے بجائے ، ان کے مخالف چلیں گے ، تو آپ ، سپر مارکیٹس میں بے نواگھومتے رہیں گے ، لیکن ، آپ کو ، اس چیز کا نام یاد نہیں آئے گا ، جو کچھ دیر پہلے ، آپ کی نوک زبان پر تھی۔nn قدیم انسان کو، بہت سی چیزیں /فہرستیں ، معلومات ، یاد رکھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔nnمبینہ طور پر، پتھر کے دور کوبھی دیکھیں ، تو ، اس وقت بھی، انسان کے جد امجد ، چند ہی چیزوں کو یادرکھتے تھے ،بلکہ چیزیں بھی نہیں ، ان چیزوں تک پہنچانے کے حوالے یاراستے ۔nn جوشوا ، فیور ، ایک صحافی/مصنف ہیں ، وہ کہتے کہnn ہمارے آباواجداد ، جو شکاری تھے ، انہیں ایک دوسرے کافون نمبر، یا باس /سربراہ سے ملی ہوئی ، ہدایات ، حرف بحرف یاد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ،nnاور نہ ہی کسی تقریب میں انہیں ، اس بات کی کوئی مجبوری تھی کہ ، وہ درجنوں اجنبیوں کے نام یاد رکھیں ، جیسے آج کل ہوتا ہے ، کہ یہ بھی ایک سوشل بوجھ بن چکا ہےnnیارآپ تو بڑے آدمی ہوگئے ، آپ کو تو نام بھی یاد نہیں وغیرہ وغیر ہ۔nnوجوہات کچھ یوں تھیںnnہمارے اجداد، چھوٹی چھوٹی لیکن مستحکم ٹولیوں میں رہتے تھے ۔nnانہیں بس یہ معلوم ہوناضروری تھا کہ ، خوراک کس روٹ پر ملے گی ،nnاورکونسا رستہ ، گھر کا راستہ ہےnnکون سےپودا ، مضر صحبت ہے ، اور کون سا مفید صحت۔nnبس یہی بنیادی اور اہم ، فنون یادداشت یا ، مہارتیں تھیں ، جو انہیں چیزیں یاد رکھنے کے لیے درکار تھیں ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.