پوسٹ – 2020-02-08

آج کل کے دور میں، ذہین ہونا ، ذہین بننا اور ذہین رہنا، اتنا ہی آسان ہے، جتنا احمق، گاوودی اور کامن سینس سے عاری۔nnیہ پوسٹ پڑھ کر nخوام خواہ کے فلسفے سے آلودہ دماغ، ذہانت اور غبی کی تعریف میں الجھ جائے گا کہ یہ کون اور کیسے طے کرے گا ۔
کہ ذہانت اور حماقت کا معیار کیا ہے
نوٹ: ایسا حماقت ذدہ سوالات اٹھا کر ، خود کو ، منفرد سا فلسفی دکھانے کے چکر میں ، یہ بے چارے چرسی/نشئی دانشور بن کہ رہ۔جاتے ہیں۔nnایک اور نوٹ:nیہ۔حمقا سے بھی زیادہ اسفل ہیں
پتا ہے کیوں ؟
احمق، سوال نہیں اٹھاتے وہ بھی خوام خواہ کی حجت کرنے کے لیے، کیوں کہ پاگل۔بس پاگل۔ہوتا یے، صحافی یا کنفیوژ نہیں، یہ چرسی دانشور ، کنفیوژن کو، فلسفہ سمجھتے ہیں۔لول

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.