جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے.nیہ اپریل جنوری میں کیوں نہیں ہوتاnnانسپکٹر رقیہ کی نوز پن نکال کر ، میرے دل میں گاڑ کر ، مجھے کوئی سفلی سا عمل پہنا دو، یہ محبوب بنی ، گڈا ڈھونڈتی رہے ، اور میں محب بنا ، ڈینور سا ہستا رہوں
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے.nیہ اپریل جنوری میں کیوں نہیں ہوتاnnانسپکٹر رقیہ کی نوز پن نکال کر ، میرے دل میں گاڑ کر ، مجھے کوئی سفلی سا عمل پہنا دو، یہ محبوب بنی ، گڈا ڈھونڈتی رہے ، اور میں محب بنا ، ڈینور سا ہستا رہوں
اترك رد