#20nnروزانہ ، ایک گھنٹہ لکھنا ، زندگی بہتر کیسے بنا سکتا ؟nnارتکاز سے بہاو تکnnاسٹیون کوٹلر ، ایک امریکی صحافی/مصنف اورکاروباری شخصیت ہیں ، جن کی تقریبا ستر مضامین ، نیویارک ٹائمز، ایل اے میگزین ، وائرڈ ، اور ٹائم جیسے بڑے اخبارات اور میگزینز کا حصہ بن چکے ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو میں انہیں نے کہا کہ ، انسان کو ، فوکس اور ربط کے بہاو کی حالت تک پہنچنے کے لیے کم و بیش ، نوے منٹ، یعنی ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے ،اور ایک بار اس حالت تک پہنچنے ، جسے آسان زبان میں ٹیمپو بن جانا ، ردھم بن جانا بھی کہا جاسکتا ہے ، اس تک پہنچنے کے بعد ، آُپ کی پیداواری صلاحیت پانچ سو گنا تک بڑھنے کے چانسز ہوتے ہیں ۔
اور روزانہ ایک گھنٹے لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ، آپ ، فوکس/ارتکازاور ربط کے بہاو کی حات تک پہنچنے سے کچھ ہی دور ہیں ، یعنی تقریبا اس کی سرحدوں تک پہنچ چکے ہیں ۔یا ،پھر دریا کے اس بہاو میں اتر چکے ہیں ، جس سے محروم ، اکثر بےچارے”فیلنگ نہیں آرہی “کے نام سے جانتے ہیں انہیں فیلنگ ،اس لیے نہیں آتی ، کہ وہ مستقل مزاج نہیں ہوتے ۔آپ مطالعہ کرتے ہوں ، آپ کو لکھنے کی چاہت ہو ، ایسا ممکن نہیں کہ آپ کو “فیلنگ نہ آئے”nآپ کو بھوک لگی ہو ، آپ کے پاس ، اجزائے ترکیبی ہوں ، آنچ ہو ، فیلنگ چاہئے ہوتی ہے ؟ کھانا بنانے کے لیے ؟
نہیں ، کھانا پکانا تو نام ہی ، ٹمپریچر اور ٹائمنگ یعنی مستقل مزاجی کا ہے ۔
پوسٹ – 2020-01-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد