#26nnایسی بہت ساری تبدیلیاں اور ڈیفالٹ رویوں کو مفید اور خود کار فیصلوںسے بدل دیجیے ، اور زندگی بہتری کی طرف مائل ہوتے دیکھئے nnونٹسن چرچل کہا کرتا تھاnnہم اپنی تعمیرات کا ڈیزائن کرتے ہیں اور ہماری تعمیرات، ہمارا۔nnآخر میں چھوٹی سے مثالn آپ میٹھے سے بچنا چاہتے ہیں لیکن چوکلیٹ کے شوقین بھی ہیں ،
اگر آپ گھر پر چاکلیٹ نہیں رکھیں گےn تو یقینا آپ کو باہر جانا پڑے گا جو کہ آپ کے دماغ کے لیے ایک نسبتاً مشکل کام ہے
اور جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا ، کہ دماغ ہمیشہ آسان راستہ پہ چلتا ہے ، آسان فیصلے کی طرف مائل ہوتا ہے ،
تو بجائے چاکلیٹ کی طلب کو بڑھانے کے، وہ سستی کی کیفیت کو بڑھاتا چلا جائے گا ، اس طرح چاکلیٹ کی طلب کو بتدریج کم کرتا چلا جائے گا جس سے آپ کی زندگی میں موجود ، ذیابطیس یعنی شوگر نامی ، میٹھی سی تلخ سوزش ہونے کا چانس کم سے کم ہوگا۔nnان سب کا ، آزمودہ ترین طریقہ کار، سادگی اختیار کرنا ہے
سادگی سے ہرگز مطلب ،غیرضروری قناعت یا مظلومیت / درویشی طاری کرنا نہیں۔
بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ، دستیاب آپشنز، اختیار ہوتے ہوئے بھی ، شعوری طور پر کم سے کم رکھیے ۔
کیونکہ زیادہ آپشن مطلب ، زیادہ فیصلے ، زیادہ فیصلے، مطلب زیادہ بوجھ، یہ دماغی کثافقت آپ کی قوت ارادی یعنی کو تابکاری بن کر چمٹ جائےگی ۔
پوسٹ – 2020-01-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد