پوسٹ – 2020-01-19

#2nnڈیفالٹ رویوں/خودکار عادات/اقدامات پر قابو کیسے پائیںnnڈیفالٹ عادات/رویے کی nایک چھوٹی سی مثال،nn فون کو چارج پہ لگا کر سونا اور، صبح اٹھتے ہی سیل فون کا غیر موزوں استعمالnnپہلے تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا ،
کہ ہم فون کو چارج پر لگا کر کیوں سوتے ہیں؟n کیونکہn ہمیں صبح اٹھتے ہی، سارے نوٹیفیکیشن کو دیکھنے کی عادت پڑ چکی ہے، اب وہ ای میل ہو یا سوشل میڈیا، اسی کی خبر لینے ہی ، ہم آنکھ کھلتے ہی ،فون کی طرف لپکتے ہیں۔
اور کچھ دیر ، عالم غنودگی میں، نیم وا آنکھوں سے، لامحدود سوشل میڈیا سکرولنگ/چیکنگ کرتے ہوئے، باقاعدہ جاگ جاتے ہیں۔nnیہ ایک ڈیفالٹ رویہ /یا آٹومیٹک طریقہ بنتا جارہا ہے، بلکہ بن چکا ہے۔nnذرا سوچیں، کہ اگر آپ فون کے بجائے ،
اپنے سرہانے، پانی کی بوتل رکھ کر سوئیں،
کچھ وقت تک آپ کو تھوڑا سا ڈس کمفرٹ محسوس ہوگا، جیسے کچھ، مسنگ یے، لیکن آہستہ آہستہ، غیر محسوس انداز میں، یہ عمل کی عادت بن جائے گاnnگویا دن کے آغاز میں، پانی پینا، آپ کے ڈیفالٹ روئے یا آٹومیٹک عدت کا حصہ بن جائے گا۔nnیہاں ہوا کیا ہے ؟nnایک ڈیفالٹ رویے کو ترک کر کے، دوسرے رویے کو اپنایا گیا
جو یقینا ایک ذہین فیصلہ ہے، اور اب وہ ، آپ کی عادت بنتا چلا جائے گا۔nnیعنی جیسے ہی، آپ نے ،اپنے سرہانے ،یا اپنے آس پاس کے منظر سے فون ہٹا دیا، کسی دوسرے کمرے میں رکھ کر سوگئے،
یا نظروں سے اوجھل کر دیا ،
تو صبح اٹھتے ہی،
آپ کی زندگی کا ، پہلا کام، پانی پینا ہو جائے گا nجو یقینا، ہر لحاظ سے ، ایک مفید اور صحت مندانہ فیصلہ ہے۔nnذرا دیکھیے ،
غیر محسوس انداز میں، اپنائے گئے ایک چھوٹے سے فیصلے (موبائل سرہانے رکھ کر سونا) کو تبدیل کرنے سے
ایک بری عادت سے پیچھا چھوٹ گیا ،اور ایک اچھی عادتn(دن کے آغاز میں پانی پینا) ،اپنا لیnnآغاز میں غالبا آپ کو یہ مشکل لگے، آپ کو ادھورا پن سا محسوس ہوگا، لیکن جلد ہی، صبح سویرے ایک دو گلاس پانی پینا ،جو کہ یقینا بہت اچھی عادت ہے، آپ کی زندگی کا حصہ بن جائے گی۔nnاسے کہتے ہیں ہی مخصوص اقدامات یا خودکار رویوں یا پھر ڈیفالٹ عادات کی طاقت۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.