#2nnگفتگو کا ہنرnnگفتگو یا مباحثہ، جب بحث برائے بحث بن کر ،بھاپ اڑانے لگے ، اور اس سے دلائل جلنے کی بوآنے لگےتو nnاس موقع پر کیا کرنا چاہیئے؟nnگہری سانس لیجیےnnدھیرج اختیار کیجئےnnسامنے والے کو کہنے کا موقع دیجئے۔nnلہجے اور کیفیات میں، تحکمانہ انداز کے بجائے، ذرا لچک لے آئیے۔nnاس سے مخاطب کو، یہ سگنل ملتا ہے کہ ،آپ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔
جبکہ، کرنا آپ نے یہی ہوتا ہے، nnمثال سمجھیئے
ذ
کسی بھی کال سینٹر والے سے بات کرلیں
آپ جتنا بھی شور شرابا کریں، اس نے ٹھنڈے مٹھے رہ کر ، منوانی، اپنی ہی ہوتی ہے
اس کے برعکس، خالصتا، ٹیکنیکل معاملات پہ کام کرنے والے لوگ، کبھی بھی سیلز / مارکٹنگ/ کسٹمر، سائڈ پہ نہیں رکھے جاتے یا یو ں کہہ لیں کہ ، رکھے نہیں جانے چاہیں۔ کیوں کہ،
ان کی مشینوں اور ٹیکنیکل ، لاجکل جھنجھٹوں میں پڑ پڑ کر مت وجی ہوئی ہوتی ہے۔
انہیں انسانوں اور وائرنگ/کمپیوٹر کوڈز/مشینوں میں کوئی خاص فرق نہیں لگتا
اسی لیے، ٹیسٹنگ کرنے کے لیے سہی ،/عادتا/ دانستہ/نادانستہ طور پر، ناتجربہ کار، لیکن متجسس بندروں کی طرح اپنا سر کھجا کھجا کر، سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ، یہ عام انسانوں کی تاریں بھی کبھی ادھر لگا کر چیک کرتے ہیں، تو کبھی وہ والا کوڈ چلاتے ہیں، اس چکر میں ، کسٹمر ، کی وائرنگز جلنا شروع ہوجاتی ہیں، تو پھر یہ۔ اسے ری سٹارٹ کرنے کی بھی ، کوشش کرتے ہیں،
پر اس طرح، مشینیں/کمپیوٹر پروگرام تو سنبھال سکتے ہیں، نارمل/ عوامی جذبات نہیں۔ nnوہ مثال سنی ہوگیnnشیر سے ہل چلواو گے تو پھر، کسان تو مرے گا ہی nnیا یوں کہہ لیں، سپاہی سے سفارتکاروں والے کام نہ لیں۔
کیوں کہ، ایسے افراد، ٹریگر ریڈی ہوتے ہیں۔
ان سے گفتگو کے ہنر، مباحثوں کی امید اور وہ بھی مثبت رکھنا، معصومیت/نادانی ہے، nپھر بھی، ایسی سچیوشن میں پھنس ہی گئے ہیں nتو اسی لیے،nnکوشش کیجئے، حس مزاح کو کام میں لاتے ہوئے، کوئی لطیفہ یا کوئی ایسی مزاحیہ بات کیجئے، جو کہ دونوں کو، ہنسنے پہ، خاص طور پر مخاطب کو،ہنسنے پر مجبور کردے،nn یہ طریقہ اپنی بات کو مقدم رکھنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔nnیہ تاثر دیجئے کہ، آپ اور وہ ایک ہی سائیڈ پر ہیں۔
پوسٹ – 2020-01-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد