#3nnگفتگو کا ہنرnnگفتگو کو لایعنی قسم کے مباحثے سے بچانے
اور گرماگرمی میں سے دور رکھنے کے لئے ،
کوشش کیجئے کہ دوسرے کے بارے میںn nبیانات یا ججمنٹ دینے سے گریز کریں، خواہ وہ بیانات ، درست ہی کیوں نہ ہوں۔n nآپ بیانات، فتوے ، ججمنٹ کے بجائے
سوالات کیجیےnnسوالات بھی اس طرح کہ، جیسے آپ کچھ سمجھنا چاہ رہے ہوںn اور آپ کے الفاظ کا چناؤ بھی ،احتیاط کا متقاضی ہوnnجس سے مخاطب کویہ محسوس ہو کہ،n آپ صورتحال کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ،
نہ کہ مباحثے میںnnیہ بات ٹھیک ہے کہ ہمہ وقت، سوالات کرنا بھی ،بہت زیادہ فائدےمند نہیں، لیکن یہ بہرحال،n جواب در جواب، nبات کاٹتے چلے جانے، nجواب دینے کے لئے سننے،n نہ سمجھنے کے لیے بات کرنے، سے کہیں زیادہ بہتر nnسوالوں کا پیٹرن / مزاج کیسا ہوnnاس طرح کے سوالn جن میں، خلوص دل سے سامنے والے کو، یہ کیفیت ملے کہ،n آپ، واقعتا، اس کی بات کو سننا، سمجھنا، اور موقف پہ غور کرنا چاہتے ہیں۔nnسوال کیجیے، جواب لیجیے، اس کے بعد ؟nnاور جب آپ، ان سے سوال پوچھ کر ،ان کا جواب لے کر مطمئن ہو چکے ہوں، یا کم از کم، سمجھ چکے ہوں،n تو ایک بار اپنے الفاظ میں ،n ان کے موقف کا اعادہ یعنی ریپیٹ ضرور کیجئےn تاکہ ،انہیں یہ کنفرم ہو nکہ آپ ،
ان کی بات کو سمجھ چکے ہیں
اور یہ بات ،یہ سوال آپ نے، محض عادتا نہیں کیا تھاnnیاد رکھیئے۔nnبات کو اپنے الفاظ میں دہرا کر کنفرم کرنا، مخاطب کی ابلتی نفسیات پر ٹھنڈک برسا دیتا ہے۔
پوسٹ – 2020-01-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد