میری محرومی یہ رہی کہ nnپندرہ سولہ سال کی الہڑ عمریا میں مظہم کلیم کے ہتتھے چڑھ گیا، مممم میرا مطلب ہے ، ان کا ناوال ، دیکھا بڑا موٹا تھا ، شاید سپیشل نمبر تھا ، سان کارا نام تھا ، یاد نہیں ، پر ، وہ جب پڑھنا شروع کیا
تو جناب ، فاسٹ ایکشن نے انی مچا دی nاب چونکہ لونڈے کو اس عمر میں آتا ہی ایسا ایکشن سمجھ میں ہے nہارمونل چینجز، بھی ادھر ادھر نکل رہے ہوت ہیں ، معاف کرنا کہہ کہہ کر
تو پھر جب کافی کچھ پڑھلیا ، عمران سیریز میں ، لیکن تھا مظہر کلیم کا ہی ۔
عمر بڑھی جوانی آگے بڑھی تو nnتو سوچا nnکیا کر پبیٹھا ہے بھائی nnادب مس کردیا آپ نے ؟
اصیل خالق کو نہیں پڑھاn:'( nکی کر بیٹھیا اے
نوکری چھوکری ذمے داری ، پیس، اب ان چیزوں میں کہاں ، پڑھ سکتا کوئی ابن صفی کوnnتو پھر ، کف افسوس ملنے لگا ،پھرایک دن خیال آیا کہ ، کوشش کروں اس ادھیڑ عمر دماغ میں مزاح اور ادب ، سے متعلق کچھ ڈالنے کی ، تو ا
ب ایک سرٹٰن عمر کے بعد جا کر، دوبارہ سے شروع کرے گا ابن صفی کی سیریزnnچھوڑ بےnnکیوں کہ ذہن سستے والے ایکشن کا عادی تھاnnسسات یعنی اس عمر جس میں ابھی ہوں اس کے لحاظ سےnnورنہ فین بہت ہوں مظہر کلیم کا بھی nnخیر دو تین سال پہلے ابن صفی صاحب کے ہاتھ پاوں جوڑے کے بھائی کچھ سمجھ آجائے nnلیکن ذہنی فراغت ایسی نہ تھیی کہ ایسی کوالٹی ہضم کر پاتاnnاب کچھ ریسرچ بیسڈ پراجیکٹ میں ، بزی تھا یعنی کام ہی لکھنے پڑھنے کا تھا تو nnسوچاnnکیوں نہ nnابن صفی کو پھر منایا جائے nnتو بس پھرnn۔۔۔۔۔ہوگئے شروعnnٹارگٹ ہے وہی کہ سال کے آخر تک ، پی جانا ہے ان کو
پوسٹ – 2020-01-14
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد