رائے کے اظہار کی بیماری ، جہاں ، لاعلاج حد تک سرایت کرجائے nوہاں ، ہر بندہ اپنی فیلڈ آف ایکسپرٹیز سے نکل کر
دوسرے کے چھابے میں ہاتھ مار کر رائے کردیتا ہے
رائے دیتا نہں ، رائے کردیتا ہے nاور پھر کہتا ہے کہ ، آزاد معاشرے میں رائے کی آزادی ہونی چاہئےnnسیریسلی ؟nnتم جا کر ، گوگل پر دوائیوں کے نام سرچ کر کے ، کسی ڈاکٹر کے سامنے ، رائے پیش کرنے کے اہل ہو ؟nnبھئی ، آزادی منہ سے بول بول کر ، ظاہر نہیں کی جاتی nاور آزاد معاشرے میں رائے کی آزادی کا ہرگز مطلب ، چھوٹی آنتوں کا ڈھیلا پن نہیں ، nکہ کچھ بھی کھا پی کر، بغیر ہضم کیے جب جی چاہا ، جہاں جی چاہا
جگالی کردی nلول nnکھوتی کے بچو
یہ nآزادی اظہاررائے ، یا nیہ رائے زنی نہیں ، رہ زنی ہےnnنوٹ: اس پوسٹ کو ، رائے کی آزادی کے خلاف سمجھنے والوں کو ایک کیوٹ سا سیلویٹ ، وہ بھی ، دائیں طرف
پوسٹ – 2020-01-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد